غیرقانونی حراست میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2023
اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’لاپتا‘ سیاستدان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت دی کہ ایسے پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں جو مبینہ غیرقانونی طور پر شہریوں کو حراست میں لینے میں ملوث ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی کی بازیابی کی درخواست پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا اور معاملے پر ان سے رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے آئی جی کو معاملہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع میں اٹھانے اور ان کے ردعمل کو رپورٹ میں شامل کرنے کی ہدایت بھی دی۔

سابق رکن قومی اسمبلی کے بھائی عثمان غنی صداقت نے حبسِ بے جا میں رکھنے کی پیٹشن جمع کروائی، درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ان کے بھائی کو پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے ’اغوا‘ کیا اور استدعا کی کہ عدالت، متعلقہ حکام کو ہدایت دے کہ انہیں پیش کیا جائے، عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی۔

دریں اثنا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ شہریوں کو مبینہ غیر قانونی طور پر حراست میں لینے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔

انہوں نے پولیس افسران کے خلاف شہریوں کو حراست میں لینے اور رہائی کے بدلے تعاون طلب کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ پولیس افسران پر الزام ہے وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، جس کے بعد جسٹس بابر ستار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ہدایت دی کہ اگر ملزمان تحقیقات میں شامل نہ ہوں تو ان کی گرفتاری کے ورانٹ جاری کریں۔

اسلام آباد پولیس کے قانونی مشیر طاہر کاظم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پہلے ہی 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر چکے ہیں جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہے، جو جرائم میں ملوث ہیں اور تین فورمز پر ان کے خلاف کارروائی جاری ہے، انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) اس معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں