پنجاب کی نگران حکومت نے صوبے میں اسموگ سے نمٹنے کے لیے ایک ماہ کے لیے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبا و طالبات کے لیے ماسک لازمی قرار دیتے ہوئے صوبے بھر میں اسموگ ایمرجنسی نافذ کر دی۔

لاہور میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت انسداد اسموگ اقدامات کے لیےکئی گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہوا۔

ماہرین ماحولیات نے اسموگ سے متعلق اجلاس میں بریفنگ دی کہ اسکولوں میں چھٹی اور ٹرانسپورٹ بند کرنے سے فرق نہیں پڑے گا۔

نگران صوبائی حکومت نے ایک ماہ کے لیے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبا و طالبات کے لیے ماسک لازمی قرار دیتے ہوئے پنجاب بھر میں اسموگ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ طلبا و طالبات کی صحت کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے، عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی وزرا کو کل سے سرکاری اور نجی اسکولوں کے دورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ گھروں کی تعمیر کے دوران مٹی، ریت اور ملبے پر چھڑکاؤ نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے اس ضمن میں کمشنر لاہور ڈویژن، محکمہ بلدیات اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو ہدایات جاری کیں۔

حکومت نے اسموگ کے دوران کاشت کاروں کے خلاف چالان واپس لینے کا حکم دیا اور اس ضمن میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو ہدایات دیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ کاشت کار فصلوں کی باقیات نہ جلائیں بلکہ انہیں مناسب طریقے سے تلف کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ جو کچھ انسانی بس میں ہے اسموگ میں کمی کے لیے ہر وہ اقدام اٹھایا جائے گا، تمام متعلقہ محکمے فعال طریقے سے انسداد اسموگ کے لیے کام کریں۔

ماہرین ماحولیات اور ماہرین صحت نے اسموگ میں کمی اور اسموگ کے اثرات سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں بریفنگ دی۔

صوبائی وزرا، ایس ایم تنویر، ڈاکٹر جاوید اکرم، عامر میر، منصور قادر، ابراہیم مراد، انسپکٹر جنرل پولیس(آئی جی)، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، زراعت، صحت، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، اسکول ایجوکیشن اور انڈسٹریز کے صوبائی سیکریٹریز، چیئرمین پی آئی ٹی بی، کمشنر لاہور سمیت متعلقہ محکموں کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی۔

لاہور ہائی کورٹ کی شہر میں اسموگ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم کے بینچ نے اسموگ کے تدارک کے لیے شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت کی جہاں کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا سمیت دیگر افسران عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

عدالت نے کہا کہ کالا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریاں سیل کریں اور انہیں ڈی سیل نہ کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے تمام اسکولوں اور کالجوں کے بچوں کو کالا دھواں چھوڑنے والے کارخانوں کی اطلاع دینے کی ہدایت کی۔

عدالت نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں کے بچے اپنے علاقوں میں اگر کالا دھواں چھوڑنے والا کوئی کارخانہ ہے تو اطلاع کریں۔

عدالت نے کہا کہ کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران کل سے اسکولوں اور کالجوں میں جاکر بچوں کو اسموگ کے حوالے آگاہی فراہم کریں۔

اسموگ کی صورت حال پر جسٹس شاہد کریم نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اسموگ کا جو حال ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ شہر کی جو حالت ہے وہ سامنے ہے، آپ (کمشنر) شہر کے مالک ہیں آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ پہلے یہ اسموگ نومبر کے آخر اور دسمبر میں آتی تھی، اب یہ اکتوبر میں شروع ہوچکی ہے، فوری اسموگ ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسموگ میرا مسئلہ نہیں ہے یہ ہم سب کے بچوں کا مسئلہ ہے، بعدازاں عدالت نے سماعت تین نومبر تک ملتوی کر دی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں