ورلڈکپ میں 4 نومبر کو کھیلے جانے والے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے قبل پاکستانی آل راؤنڈر افتخار احمد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ٹیم ہار رہی ہوتی ہے تو سب کہتے ہیں کہ کوئی جان نہیں لگا رہے، اگر ٹیم جیت رہی ہوتی ہے تو کوئی نہیں کہتا کہ بریانی کھا رہے ہیں، ہر پروفیشنل کھلاڑی کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، ٹیم کا مورال بلند ہوا ہے، اگلے میچز میں اور بہتر پرفارم کریں گے۔

پاکستان نے ورلڈ کپ میں اب تک 7 میچز کھیلے ہیں جن میں سے 4 میں اسے شکست اور 3 میں فتح حاصل ہوئی ہے، جس کے بعد قومی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

پاکستان کی ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے نہ صرف اگلے دونوں میچوں میں کامیابی درکار ہے بلکہ نیٹ رن ریٹ میں بھی نیوزی لینڈ کو پیچھے چھوڑنا ہو گا۔

گرین شرٹس کا اگلے دو میچوں میں گزشتہ ورلڈ کپ کی فائنلسٹ ٹیموں نیوزی لینڈ اور دفاعی چیمپیئن انگلینڈ سے سامنا ہو گا۔

اگر کل (4 نومبر کو) پاکستان کی ٹیم نیوزی لینڈ سے ہار جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کی سیمی فائنل تک رسائی کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے اور انگلینڈ کے خلاف کامیابی بھی کسی کام نہ آئے گی۔

نیوزی لینڈ سے میچ سے قبل آل راؤنڈر افتخار احمد نے بنگلورو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فخر زمان کا ٹیم میں واپس آنا اہم ہے، بھارت کی کنڈیشنز میں شروع میں تیز رنز کرنا اہم ہے، بنگلورو میں ایک میچ کھیل چکے ہیں، یہاں کی کنڈیشن کا اندازہ ہے۔

32 سالہ آل راؤنڈر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف جیتنے کے بعد ٹیم کا مورال بلند ہے، اب ہماری توجہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ پر ہے، ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں، ہم ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بھارت میں موجود ہیں، ہم نیٹ رن ریٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کرکٹ کھیلیں گے اور اسی کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔‘

افتخار احمد نے کہا کہ وہ اب تک باؤلنگ اور بیٹنگ میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں لیکن اوپننگ باؤلر کے لحاظ سے انہیں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ورلڈ کپ میں اب تک 7 میچز میں سے مسلسل 4 میچز میں شکست پر بات کرتے ہوئے افتخار احمد نے کہا کہ کوئی بھی ٹیم چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، مخالف ٹیم اگر اچھا پرفارم کر رہی ہو تو دوسری ٹیم پر ذہنی دباؤ لازمی آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے تمام کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مخالف بلے بازوں کی مضبوط شراکت کسی بھی ٹیم کو پریشان کر سکتی ہے، مجھے یقین ہے کہ ہمارے بلے باز، فیلڈرز اور باؤلرز اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘

آل راؤنڈر نے مزید کہا کہ جب ٹیم ہار رہی ہوتی ہے تو سب کہتے ہیں کہ کوئی جان نہیں لگا رہے، اگر ٹیم جیت رہی ہوتی ہے تو کوئی نہیں کہتا کہ بریانی کھا رہے ہیں، ہر پروفیشنل کھلاڑی کو پتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔

انہوں نے مزاحیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بریابی کھانے سے اگر ملک کا نام بدنام ہوتا ہے تو ہم اس کے بھی خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ جب قومی ٹیم بھارت پہنچی تھی تو قومی کرکٹرز مقامی روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے، کھلاڑیوں نے حیدر آباد دکن کی مشہور بریانی بھی کھائی تھی۔

اسی حوالے سے شاداب خان نے ورلڈ کپ وارم اپ میچ کے دوران خراب فیلڈنگ کے لیے مذاقاً ’حیدرآبادی بریانی‘ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔

انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ ’ہم روزانہ حیدر آبادی بریانی کھا رہے ہیں، شاید اسی لیے گراؤنڈ میں لڑکے تھوڑے سست ہوگئے ہیں‘۔

شاداب خان کے بیان کے بعد جب ورلڈ کپ میں پاکستان کو مسلسل چار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تو قومی ٹیم کے کرکٹرز کو فٹنس مسائل پر تنقید کا سامنا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں