9 مئی واقعات: زیر حراست مشہور ڈیزائنر خدیجہ شاہ کا ایک اور مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2023
خدیجہ شاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھیج دیا گیا — فائل/ فوٹو: فیس بک
خدیجہ شاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھیج دیا گیا — فائل/ فوٹو: فیس بک

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) لاہور نے 9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں زیرحراست مشہور ڈیزائنر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن خدیجہ شاہ کو ایک اور مقدمے میں جیل سے اپنی حراست میں لے لیا۔

خدیجہ شاہ کو ایف آئی اے نے مزید ریمانڈ کے لیے لاہور کی ضلع کچہری کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے سماعت کی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے ایف آئی اے لاہور کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

عدالت میں ایف آئی اے کے لیگل ایڈوائزر رانا اعجاز خلیل پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’9 مئی کو خدیجہ شاہ نے اشتعال انگیز ٹوئٹس کیے جو ابھی تک ری ٹوئٹ ہو رہے ہیں‘۔

خدیجہ شاہ کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’خدیجہ شاہ 5 ماہ سے جیل میں ہیں،کیا خدیجہ شاہ جیل سے ٹوئٹ کر رہی ہیں‘۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

یاد رہے کہ خدیجہ شاہ نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے الزامات میں 23 مئی کو خود کو لاہور پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر ہونے والے حملوں کے لیے اکسانے والے افراد میں سرفہرست تھیں اور انہیں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

اعلیٰ پولیس حکام نے ان کی گرفتاری کے حوالے سے کہا تھا کہ خدیجہ شاہ لاہور سی آئی اے ہیڈ آفس میں پیش ہوئیں اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ خدیجہ شاہ پی ٹی آئی کی پُرزور حامی ہیں اور وہ اس وقت سے روپوش تھیں جب پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کیے تھے۔

بعد ازاں 18 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی تھی۔

جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی تاہم ایف آئی اے نے دوسرے مقدمے میں ان کو گرفتار کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ 9 مئی کو سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی کی القادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج شروع ہوگئے تھے۔

لاہور میں چند مشتعل افراد نے کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) پر حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ اور فوجی تنصیبات نذر آتش کی تھیں، جس کے بعد حکومت نے فوجی تنصیبات پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کے کئی مرکزی رہنماؤں سمیت سیکڑوں کارکنان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

9 مئی کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں (جے آئی ٹیز) پہلے ہی لاہور کے 14 میں سے 12 مقدمات میں ٹرائل کورٹس میں چالان (چارج شیٹس) جمع کرا چکی ہیں، جن میں سے ایک مقدمہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملے سے متعلق ہے۔

پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور 900 سے زائد پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو ایف آئی آر میں شامل تمام جرائم کا ذمہ دار قرار دیا تھا، مقدمات کے مطابق پارٹی کارکنان نے عسکری ٹاور اور شادمان تھانے سمیت فوجی تنصیبات، پولیس کی گاڑیوں اور دیگر سرکاری و نجی املاک پر بڑی تعداد میں حملہ کیا۔

عدالتوں میں جمع کرائے گئے چالان میں استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ 9 مئی کو ملزمان کی زیر قیادت پرتشدد مظاہرے ریاست کے خلاف ایک طے شدہ سازش کا حصہ تھے۔

اس میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر سمیت 400 سے زائد ویڈیو شواہد نے ثابت کیا کہ چھاؤنی کے علاقوں میں فوجی تنصیبات اور احاطے پر حملے پہلے سے طےشدہ تھے۔

ان مقدمات میں بغاوت اور ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں اور چالان کے ساتھ ایف آئی اے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس بھی منسلک کی گئی ہیں، صرف کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس میں پارٹی رہنماؤں سمیت 368 ملزمان کے چالان کیے جا چکے ہیں۔

چالان 3 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جبکہ استغاثہ کے 210 گواہوں کی فہرست بھی مرتب کی گئی ہے، عسکری ٹاور کیس میں 65 مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور ان کے خلاف الزامات کے ساتھ 55 گواہوں کی فہرست بھی جمع کرائی گئی ہے۔

گلبرگ تھانے میں درج مقدمے میں 5 ملزمان کو نامزد کیا گیا اور استغاثہ نے 36 گواہوں کی فہرست جمع کرائی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں