کراچی: ہمدرد یونیورسٹی ہاسٹل سے نوجوان طالب علم کی لاش بر آمد
کراچی میں منگھو پیر پولیس تھانے کی حدود میں قائم نجی یونیورسٹی کے ہاسٹل کے کمرے میں نوجوان طالب علم مردہ حالت میں پایا گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 20 سالہ طالب علم امن کمار ہمدرد یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مردہ حالت میں پایا گیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاش کم از کم دو دن سے ہاسٹل کے کمرے میں موجود تھی۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس سرجن سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ اس طالب علم کی لاش سڑنے کے مراحل میں ہے، جسم پر واضح طور پر زخم کے نشانات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام نمونے حاصل کر کے جانچ پڑتال کے لیے بھیجے جا چکے ہیں تاکہ موت کی وجہ کا تعین کیا جاسکے۔
علاقے کے ایس ایچ او ماجد علوی نے بتایا کہ امن کمار کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا، وہ ہاسٹل کے کمرے میں اکیلا رہتا تھا اور اس کا تعلق شہداد کوٹ سے تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کی موت قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہوئی مگر پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
دریں اثنا ہمدرد یونیورسٹی نے پریس ریلیز میں بتایا کہ میڈیکو لیگل آفس نے یہ قرار دیا ہے کہ طالب علم کی موت قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہوئی۔
اس میں بتایاگیا ہے کہ پولیس اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور مختلف زاویوں سے اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، معاملے میں اب تک کسی قسم کے غلط کام کا شبہ سامنے نہیں آیا ہے۔
یونیورسٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
دوسری جانب نگران وزیر اعلی سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی پولیس چیف کو جلد از جلد تحقیقات کرکے انہیں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دے دی۔
یاد رہے کہ رواں سال اکتوبر میں کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے تحقیقی طالب علم کی لاش ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے برآمد ہوئی تھی، انتظامیہ نے بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مختیار علی کا انتقال قدرتی وجوہات کی وجہ سے ہوا۔












لائیو ٹی وی