ایف بی آر نے پی آئی اے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات واپس لے لیے

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے اکاؤنٹس غیرمنجمد ہونے کی تصدیق کی ہے — فائل فوٹو: پی آئی اے
ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے اکاؤنٹس غیرمنجمد ہونے کی تصدیق کی ہے — فائل فوٹو: پی آئی اے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات واپس لے لیے لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ ہدایات اسے ریکوری کی کارروائی سے نہیں روکتیں۔

قومی ایئرلائن حالیہ کچھ عرصے سے شدید مالی بحران کا شکار ہے، گزشتہ روز ایف بی آر نے پی آئی اے کے 28 اکاؤنٹس منجمد کر دیے تھے، دوسری جانب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے بھی متنبہ کیا تھا کہ اگر بقایاجات کا تصفیہ نہ کیا گیا تو پی آئی اے کو تیل کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔

ایف بی آر نے پی آئی اے کے اکاؤنٹس ایسے وقت میں منجمد کرنے کا فیصلہ کیا جب یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کا ایک وفد فلائٹ سیفٹی سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ملک میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ ای اے ایس اے نے 22 مئی 2020 کو کراچی میں ایک طیارہ گرنے کے بعد یورپ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

یہ پابندیاں سابق وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے پارلیمنٹ میں اس بیان کے تناظر میں لگائی گئی تھیں کہ 40 فیصد پاکستانی پائلٹس کی اہلیت مشکوک ہے۔

آج جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن میں ایف بی آر کے ڈپٹی کمشنر برائے ان لینڈ ریونیو نے کہا کہ مذکورہ نوٹس واپس لینے اور ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس کو فوری طور پر غیر منجمد کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

تاہم ایف بی آر نے واضح کیا کہ مذکورہ ہدایات ایف بی آر کو فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے سیکشن 14 (3) کے تحت بقایا جات کی ریکوری کے لیےکارروائی کرنے سے نہیں روکتیں۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ ایف بی آر نے ملک بھر میں پی آئی اے کے اکاؤنٹس کو غیر منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے اور ایف بی آر کا لارج ٹیکس یونٹ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔

پی آئی اے کو اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے، حکومت نے قرضوں میں ڈوبی قومی ایئرلائن کے لیے ایئرپورٹ آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے ساتھ نجکاری کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے۔

گزشتہ ماہ پی آئی اے کو اُس وقت شدید دھچکا لگا جب پی ایس او کی جانب سے غیر ادا شدہ واجبات پر پی آئی اے کو ایندھن کی سپلائی میں کٹوتی کے بعد اس کے فضائی آپریشنز بری طرح متاثر ہوئے اور 2 ہفتوں میں تقریباً 500 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔

اگرچہ فضائی آپریشنز بعد ازاں بحال کر دیے گئے تھے لیکن حکومت نے اب قومی ایئر لائن کے مستقبل کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر پیش رفت شروع کردی ہے۔

گزشتہ ہفتے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے ذیلی اثاثہ جات کی فروخت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں منسوخ کر دی تھیں اور ان امور کی تکمیل کے لیے سینئر حکام کو متعلقہ ڈپارٹمنٹل جنرل منیجرز اور ان کی ٹیموں کے ساتھ اپنے دفاتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں