کوپ 28 کانفرنس: متحدہ عرب امارات کا 30 ارب ڈالر کے کلائمٹ فنڈ کے قیام کا اعلان

02 دسمبر 2023
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے سمٹ کی سائڈلائنز پربرطانیہ کے وزیر اعظم رشی سناک ، ڈینش وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے سے ملاقات کی — فوٹو: اے پی پی
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے سمٹ کی سائڈلائنز پربرطانیہ کے وزیر اعظم رشی سناک ، ڈینش وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے سے ملاقات کی — فوٹو: اے پی پی

کوپ 28 کی دو روزہ عالمی موسمیاتی ایکشن سمٹ کے آغاز میں جمعہ کو کئی مندوبین نے شرکت کی، جہاں حکومتوں، ترقیاتی بینکوں اور کمپنیوں نے کلائمٹ فنانسنگ کے لیے اربوں روپے جمع کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے موسمیاتی سرمایہ کاری کے لیے 30 ارب ڈالر کے نئے فنڈ کے قیام کا اعلان کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الٹرا نام کے اس منصوبے کا مقصد اس دہائی کے آخر تک 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ہے، جسے کوپ 28 کے صدر سلطان احمد الجابر نے ماحولیاتی فنانسنگ کے لیے ایک ’فیصلہ کن لمحہ‘ قرار دیا۔

اسے دنیا کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بڑی نجی سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے سلطان الجابر کا کہنا تھا کہ اس میں غریب ممالک کے لیے مختص کردہ 5 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔

لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ میں جمعرات کے تقریباً نصف ارب ڈالر کے وعدوں کا اضافہ کرتے ہوئے، پورے دن میں متعدد مالیاتی وعدوں کا بھی اعلان کیا گیا۔

عالمی بینک نے 2025-2024 میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں کی فنانسنگ کو 35 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد تک کرنے کا وعدہ کیا۔

کینیڈا نے فنڈ میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر اور فرانس نے 10 کروڑ ڈالر دینے کا عہدکیا، اس کے علاوہ، برطانیہ نے گرین کلائمیٹ فنڈ کے لیے (جی سی ایف) 2 ارب ڈالر جبکہ عالمی بینک نے 2025 تک موسمیاتی فنانسنگ میں شراکت کو 40 ارب ڈالر تک بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔

ایک اور عہد میں، میزبان ملک نے آئی ایم ایف کے ’ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی ٹرسٹ; کے لیے20 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرنے کے لیے کہ موسم کی مالی اعانت جعلی منصوبوں پر ضائع نہ ہو، عالمی بینک نے اعلیٰ سالمیت والی عالمی کاربن مارکیٹوں کی نمو کو بڑھانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس سے 2024 میں پانچ ممالک کو مضبوط آف سیٹ کریڈٹ تیار کرنے میں مدد ملے گی جسے وہ مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں۔

گلوبل وارمنگ کے سنگین نتائج کا سامنا کرنے ولے جنوبی افریقہ اور دیگر چھوٹے افریقی ممالک کی مدد کے لیے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی خیراتی تنظیم گیٹس فاؤنڈیشن اور متحدہ عرب امارات نے مل کر 20 کروڑ ڈالر دینے کا عہدکیا۔

سرکاری اور نجی قرض دہندگان کو اکٹھا کرتے ہوئے مخلوط فنانس کے لیے پہلی بار موسمیاتی توجہ مرکوز کرنے والے سرکردہ عطیہ دہندگان، بشمول بیزوس ارتھ فنڈ سرمایہ کاری کا پلیٹ فارم شروع کرنے میں الائیڈ کلائمیٹ پارٹنرز شامل ہوگئی، اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں 11 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی، ٹاٹا موٹرز نے کہا کہ وہ فروخت کو بڑھانے کے لیے کلائمیٹ فنانس لیڈرشپ انیش ایٹو انڈیا (سی ای ایل آئی) کے تحت منسلک بینکوں کے ساتھ کام کرے گا۔

بھارتی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے وسیع تر اتحاد کے طور پر سی ایف ایل آئی نے گرین ہائیڈروجن، ای موبیلیٹی اور قابل تجدید ذرائع سمیت دیگر شعبوں میں 6.5 ارب ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے بھی دنیا کے کثیرالجہتی ترقیاتی بینک کے نظام میں اصلاحات کی کوششوں کی حمایت کی تاکہ مناسب قیمتوں پر زیادہ نجی مالیات کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

قائدین کے سربراہی اجلاس کا آغاز متحدہ عرب امارات کے مرحوم بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کے ہولوگرام کے ساتھ ہوا، جس میں 130 سے زائد عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا گیا۔

نمایاں حاضرین میں پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ، باد شاہ چارلس سوئم، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سناک، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون، جرمن چانسلر اولاف شولز، بل گیٹس اور انتونیو گوتریس نے شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ہفتوں اعلان کیا تھا کہ صدر جو بائیڈن شرکت نہیں کریں گے، تاہم سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن، موسمیاتی امور پر امریکی خصوصی ایلچی جان کیری کے ساتھ نائب صدر کملا ہیرس نے شرکت کی۔

اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

اپنی تقریر میں کنگ چارلس نے ایک ڈرامائی انتباہ دیا۔

ہم تمام ماحولیاتی حالت کو تبدیل کرنے کا ایک وسیع، خوفناک تجربہ ایک ساتھ اور اس رفتار سے کر رہے ہیں، جو فطرت کی نمٹنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، اب ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس میں ہمارا انتخاب سیاہ اور کھلا ہے کہ ہم اپنی دنیا تیار کر نے کے لیے خطرناک حد تک کتنا تیار ہیں؟

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا شیڈول

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا دن سمٹ کی سائیڈلائنز میں مصروف رہا، انہوں نے بادشاہ چارلس سوئم، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سناک ، ڈینش وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے سے ملاقات کی۔

دبئی ایکسپو سٹی پہنچنے پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان اور اقوام متحدہ کے سربراہ نے ان کا استقبال کیا۔

انہوں نے پاکستان پویلین کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو چلانے میں مذاکرات اور سہولت کاری کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا گیا۔

تبصرے (0) بند ہیں