چیف جسٹس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا، نہ جانبداری کریں گے، عمران خان کے خط پر سپریم کورٹ کی پریس ریلیز جاری

02 دسمبر 2023
پریس ریلیز کے مطابق یکم دسمبر 2023 کو 7 صفحات کی درخواست چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر میں موصول ہوئی—فائل فوٹو: ایکس/سپریم کورٹ ویب سائٹ
پریس ریلیز کے مطابق یکم دسمبر 2023 کو 7 صفحات کی درخواست چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر میں موصول ہوئی—فائل فوٹو: ایکس/سپریم کورٹ ویب سائٹ

سابق وزیراعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو لکھے گئے خط کے جواب میں سپریم کورٹ نے پریس ریلیز جاری کردی۔

سیکریٹری چیف جسٹس آف پاکستان ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یکم دسمبر 2023 کو 7 صفحات کی درخواست (مع 77 صفحات پر مشتمل دستاویز) چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر میں موصول ہوئی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دستاویز میں اسے تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ کی تفصیلات نہیں دی گئیں، لفافے کے مطابق دستاویز انتظار حسین پنجھوتہ نے کوریئر کی تھی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دستاویز بظاہر ہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے حالانکہ وکلا اس جماعت کی اچھی نمائندگی کرتے رہے ہیں، پچھلے دنوں ہی سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلا فوجی عدالتوں اور انتخابات کیس کو تکمیل تک لے گئے۔

سیکریٹری چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ امر حیران کن ہے کہ سربمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی اس دستاویز کو میڈیا پر جاری کیا جا چکا تھا۔

پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ سب یقین رکھیں کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے، چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا، نہ ہی وہ جانبداری کریں گے، اللہ کے فضل سے وہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنے منصب کے حلف کی پاسداری کرتے رہیں گے۔

عمران خان کا خط

یاد رہے کہ 30 نومبر کر عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر استدعا کی تھی کہ وہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنائیں۔

عمران خان کی جانب سے لکھے گئے 6 صفحات پر مشتمل اس خط کے ساتھ ملک میں جاری بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے دستاویزی شواہد بھی منسلک کیے گئے تھے۔

عمران خان نے خط میں مؤقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ کو شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے نفاذ کا نہایت اہم اختیار حاصل ہے اور دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عدالت کو شہریوں کو شخصی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے آئینی حقوق سے محروم کرنے پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کے اختیارات کو سیاسی انجینئرنگ کے آلہ کار کے طور پر کھلم کھلا استعمال کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو جھوٹے مقدمات کے اندراج سے لے کر غیر قانونی قید میں رکھنےتک مختلف قسم کے حربوں سے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے قائدین و کارکنان کو عدالتوں سے ضمانت پر رہائی ملنے کے باوجود فوری طور پر کسی دوسرے من گھڑت مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور 9 مئی واقعات کے تناظر میں گرفتار کی گئی بےگناہ خواتین تقریباً 6 ماہ سے غیرقانونی طور پر جیلوں میں قید ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی ہائی کورٹس نے اپنے گزشتہ چند آرڈرز کے ذریعے پولیس کو نامعلوم مقدمات میں شہریوں کو گرفتار کرنے سے منع کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ اس بات سے لاعلم نہیں ہو گی کہ 2018 سے 2022 تک تحریک انصاف یا تحریک انصاف کی حکومت سے منسلک افراد کو کس طرح سے غائب کیا جا رہا ہے، یہ افراد دوبارہ نمودار ہوتے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں وہ وہی بات کرتے ہیں جو انہیں سکھایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافی عمران ریاض خان سمیت متعدد نامور شخصیات کو اسی صورتحال سے گزرنا پڑا، گرفتاریوں کے علاوہ اس طرح کی گمشدگی اور اغوا کے واقعات سے معاشرے میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے اور یہ واقعات اس امر کی توہین ہیں کہ پاکستان کو آئین اور قانون کے تحت چلایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی مداخلت کے بغیر بڑے پیمانے پر جاری جبری گرفتاریوں اور اغوا کے سلسلے کا خاتمہ اور 8 فروری کو منصفانہ عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ممکن نہیں۔

عمران خان نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ دستور میں دیے گئے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کا نفاذ اور تحفظ یقینی بنائے۔

انہوں نے استدعا کی تھی کہ ملک بھر میں جبری طور پر لاپتا کیے گئے سیاسی کارکنان اور صحافیوں کی بازیابی کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے اور نگران وفاقی و صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کی جائیں کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے مساوی ماحول فراہم کیا جائے۔

عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں مزید استدعا کی تھی کہ وفاقی حکومت اور پیمرا کو ہدایت دی جائے کہ وہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بلا امتیاز میڈیا کوریج کو یقینی بنائیں۔

تبصرے (0) بند ہیں