کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف جیت پر مبینہ طوپر جشن منانے کے الزام میں پولیس نے 7 کشمیری طلبہ کو گرفتار کرلیا تھا جنہیں گزشتہ روز بھارتی عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے نومبر کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب ایک بھارتی طالب علم نے ان پر میچ کے بعد آسٹریلیا کی جیت پر جشن منانے اور پاکستان کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔

گرفتار طلبہ پر انسداد دہشت گردی کے نئے قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، یہ دفعہ فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے اور مخالف فرقوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ہے جس کی سزا 7 سال قید ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم 20 سالہ طالب علم نے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائی تھی جس کے تحت غیر کشمیری طلبہ کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانے پر 7 کشمیری طلبہ کو نامزد کیا گیا اور اس شکایت کی بنیاد پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

طالب علم نے اپنی تحریری شکایت میں الزام عائد کیا کہ ’میچ ختم ہوتے ہی طلبہ نے مجھے بُرا بھلا کہنا شروع کیا، مجھے خاموش رہنے کو کہا اور انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی، اس کے علاوہ انہوں نے ’جیوے جیوے پاکستان‘ کے نعرے بھی لگائے جس سے غیر کشمیری طلبہ بہت ڈر گئے۔‘

یونیورسٹی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ’طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ کے بجائے براہ راست پولیس کو شکایت درج کروائی تھی، اگر طلبہ ہم سے رابطہ کرتے تو ہم اندرونی طور پر معاملہ حل کر سکتے تھے، لیکن شکایت ہم تک نہیں پہنچی۔‘

عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے طلبہ کی عمریں تقریباً 20 سال ہے اور وہ ویٹرنری سائنس کے چوتھے سال کے بیچلر کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

مقامی سیاسی رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتاریاں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کا استعمال کرکے مقامی لوگوں کو ڈرانے کی کوشش تھی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایکٹ کے تحت گرفتاری کے الزامات کی تردید کردی اور بھارتی عدالت نے گزشتہ روز طلبہ کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

مقامی عدالت نےفیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ضمانت دینے پر عدالت نے یہ شرط عائد کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر طلبہ کو تحقیقات کے لیے پیش ہونا ہوگا اور آئندہ کسی بھی ملک کے خلاف سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔

رپورٹ کے مطابق طلبہ کو اب بھی دیگر بھارتی قوانین کے تحت الزامات کا سامنا ہے جس کے تحت عوام میں فساد پھیلانے کا الزام بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ کرکٹ کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ورلڈ کپ 2023 اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے، 19 نومبر کو ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست ٹیم بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف فائنل میچ کھیلا گیا تھا۔

فائنل میچ میں آسٹریلیا نے باآسانی بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ کرکٹ کے حوالے سے کشمیری طلبہ پر الزامات کے تحت گرفتاری کی گئی ہو، قبل ازیں اکتوبر 2021 میں مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں دو میڈیکل کالجز کے کچھ طلبہ کے خلاف اسی یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمات درج کیے تھے تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ 2014 کے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے دوران ایک اور واقعے میں تقریباً 60 کشمیری طلبہ کو شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک کالج کی انتظامیہ نے اس وقت معطل کر دیا جب انہوں نے مبینہ طور پر بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منایا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں