منظور پشتین 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2023
وکیل صفائی نےکہا کہ جلسہ کرنا  ہمارا حق ہے—فائل فوٹو:ٓ آئمہ کھوسہ
وکیل صفائی نےکہا کہ جلسہ کرنا ہمارا حق ہے—فائل فوٹو:ٓ آئمہ کھوسہ

انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

تھانہ ترنول میں درج مقدمہ میں پولیس نے منظور پشتین کو اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا۔

پولیس کی جانب سے منظور پشتین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جبکہ وکیل صفائی نےکہا کہ جسمانی ریمانڈ نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ جلسہ کرنا ہمارا حق ہے، بلوچستان میں منظور پشتین کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، انہیں بلوچستان سے اغوا کیا گیا اور 3 دن بعد آج عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے منظور پشتین کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 4 دسمبر کو ڈپٹی کمشنر چمن راجا اطہر عباس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ منظور پشتین کو اُن کی گاڑی سے پولیس پر فائرنگ کیے جانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ بیان پی ٹی ایم کے اس بیان کے تقریباً 4 گھنٹے بعد سامنے آیا تھا کہ مبینہ طور پر منظور پشتین کی گاڑی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ چمن سے تربت جا رہے تھے، جہاں مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔

ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے راجا اطہر عباس نے کہا کہ لیویز اور پولیس اہلکاروں نے پی ٹی ایم رہنما کو گداموں کے علاقے سے گرفتار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج مال روڈ پر منظور پشتین کی گاڑی سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کا مقدمہ بھی پی ٹی ایم رہنما کے خلاف درج کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ منظور پشتین کو آج کے واقعے کے ساتھ ساتھ ان کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے، جنہیں بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

تاہم گزشتہ روز ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سابق رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہا تھا کہ منظور پشتین کو 4 دسمبر کو گرفتار کیے جانے کے بعد سے تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے منظور پشتین نے تربت میں بالاچ مولا بخش کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔

یہ احتجاج 24 نومبر کے بعد سے جاری تھا جب سی ٹی ڈی نے بالاچ مولا بخش کو 3 دیگر افراد سمیت ایک مقابلے میں قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں