توشہ خانہ ریفرنس میں سزا: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے گرفتاری دے دی

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2024
فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشری بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں— فائل فوٹو: ڈان نیوز
فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشری بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں— فائل فوٹو: ڈان نیوز

توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید با مشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں جہاں ان کو تحویل میں لے لیا گیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14،14 سال قید با مشقت، کسی بھی عوامی عہدے کے لیے 10 سال کے لیے نااہل قرار دینے کے علاوہ 78 کروڑ 70 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

آج کی سماعت کے دوران عمران خان کو عدالت میں پیش کیاگیا تھا جب کہ بشری بی بی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں تھیں۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشری بی بی گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچیں جہاں نیب ٹیم پہلے سے ہی وہاں موجود تھی۔

اس موقع پر اڈیالہ جیل کے اطراف میں پولیس کی بھارتی نفری تعینات تھی، نیب ٹیم کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد بشری بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا۔

جیل ذرائع کے مطابق بشری بی بی کا طبی معائنہ بھی کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ قومی احتساب نیورو (نیب) نے گزشتہ سال توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں جاری نوٹس میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر ملزمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ مجاز اتھارٹی نے نیب آرڈیننس 1999 کی دفعات کے تحت ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر کیے گئے جرم کا نوٹس لیا ہے’۔

خط میں مزید کہا گیا کہ اس سلسلے میں کی گئی انکوائری میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران آپ نے غیر ملکی معززین کی جانب سے پیش کردہ بیش قیمت ریاستی تحائف میں سے کچھ حاصل کیے تھے۔

خط کے مطابق ان تحائف میں 5 رولیکس گھڑیاں، 14 نومبر 2018 کو قطر کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کی جانب سے پیش کیا گیا آئی فون، کف لنکس، ایک انگوٹھی، 18 ستمبر 2020 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیا گیا پینٹ کوٹ کا کپڑا، گراف گفٹ سیٹ جس میں ایک گراف گھڑی ماسٹر گراف اسپیشل ایڈیشن مکہ ٹائم پیس، ایک 18 قیراط سونے اور ہیرے کا گراف پین، ایک انگوٹھی اور کف لنکس اور مکہ کی ایک مائیکرو پینٹنگ شامل ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ’لہذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ انکوائری کی کارروائی میں شامل ہوں۔

نیب کی جانب سے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، مجرمانہ مداخلت اور تحائف کی غیرقانونی فروخت کی جو ریاست کا اثاثہ تھے۔

بشریٰ بی بی کو دیے گئے نیب کے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’آپ نے امیر قطر کی جانب سے پیش کی گئی ایک رولیکس لیڈیز گھڑی اور ایک لاکٹ، سونے اور ہیرے کی چین، سونے اور ہیرے کے دو بریسلیٹس پر مشتمل بکس وصول کیا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ سعودی ولی عہد کی جانب سے دیا گیا ایک ہار، ایک بریسلیٹ، ایک انگوٹھی اور کانوں کی بالیوں کا جوڑا بھی وصول کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں