9 مئی جلاؤگھیراؤ کے مقدمات میں رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید پر فردِ جرم عائد کردی گئی۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے یاسمین راشد، محمودالرشید، اعجاز چوہدری پر فرد جرم عائد کی۔

عدالت نے ملزمان کا جیل ٹرائل کرنے کا حکم دے دیا اور آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڑ اور شاد مان پولیس نے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔

تینوں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی مقدمات میں فردِ جرم ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد میں محض ایک دن باقی رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ میاں محمود الرشید لاہور میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 169 سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

اعجاز چوہدری کی کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف درخواست گزشتہ ماہ 14 جنوری کو خارج کردی گئی تھی۔

پسِ منظر

9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کو کور کمانڈر ہاؤس پر مبینہ حملے کے الزام میں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں