لاہور ہائی کورٹ نے محمد خان بھٹی کو پرنسپل سیکرٹری تعینات کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی ضمانت منظور کرلی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے چوہدری پرویز الہٰی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، پرویز الہٰی کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر سعید راں اور فرمان مینس عدالت میں پیش ہوئے۔

عامر سعید راں ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے محمد خان بھٹی کو ڈسچارج کیا، پرویز الہٰی کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے پرنسپل سیکریٹری کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کا نوٹی فکیشن چیف سیکرٹری پنجاب نے جاری کیے۔

انہوں نے استدلال کیا کہ اس مقدمہ میں چیف سیکریٹری کو فریق ہی نہیں بنایا گیا، یہ کیس سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہٰی کو ابتدائی طور پر گزشتہ سال یکم جون کو حراست میں لیا گیا تھا، ان کی رہائش گاہ کے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے محاصرے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو متعدد مرتبہ رہائی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اب تک نظر بند ہیں۔

9 مئی کو پرتشدد مظاہروں کے دوران اہم سرکاری اور فوجی تنصیبات کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے ساتھ ہی قانونی چیلنجز بھی کھڑے ہوگئے تھے۔

پرویز الہٰی کے خلاف یہ کیس بطور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد خان بھٹی کی مبینہ طور پر غیر قانونی تقرری سے متعلق ہے، اس کیس میں ضمانت ملنے کا باوجود پرویز الہٰی کی رہائی کی توقع نہیں ہے جب کہ وہ اب بھی دیگر مقدمات میں زیر حراست ہیں۔

ان کی ابتدائی گرفتاری کے بعد انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے کہا تھا کہ پرویز الہٰی اختیارات کے ناجائز استعمال اور ترقیاتی فنڈز میں غبن سے متعلق کیس میں مطلوب تھے۔

اے سی ای کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 کے 12 افسران کو میرٹ کے خلاف بھرتی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے گجرات اور منڈی بہاالدین سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے نتائج تبدیل کیے، اس سلسلے میں سیکریٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں