پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے حکومت سازی پر اتفاق کے بعد آج اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1094 پوائنٹس بڑھ گیا۔

پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس 1094 پوائنٹس یا 1.81 فیصد اضافے کے بعد 61 ہزار 559 تک جا پہنچا، جو گزشتہ روز 60 ہزار 464 پر بند ہوا تھا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹیو محمد سہیل نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت کی تشکیل پر اتفاق کی خبروں کے بعد مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے صورتحال واضح ہونے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

چیز سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر یوسف ایم فاروق نے نوٹ کیا کہ نئی حکومت کے حوالے سے گزشتہ رات صورتحال واضح ہونے کے بعد اسٹاک ایکسیچنج کا آغاز مثبت ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز ملک میں عام انتخابات کے باوجود سیاسی بے یقینی کے سبب پاکستان اسٹاک ایکسچینج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1147 پوائنٹس کمی کے بعد 59 ہزار 872 پر بند ہوا تھا۔

اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے بتایا تھا کہ وفاق میں ’کمزور اتحادی حکومت‘ کی تشکیل کی توقع اور پاکستان تحریک انصاف و دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال نے سولات اٹھے ہیں کہ معاشی بحالی کے لیے ضروری سخت اصلاحات پر عملدرآمد کیسے ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ریاستی ملکیتی کمپنیوں پر دباؤ برقرار ہے، اور اس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں منفی رجحان دیکھا گیا جب کہ اس سے ایک روز قبل ایس ای-100 انڈیکس میں 1133 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس 61 ہزار 20 پر بند ہوا تھا۔

14 فروری کو پاکستان مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) اوردیگر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مل کر حکومت بنانے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 926 پوائنٹس بڑھ گیا تھا۔

13 فروری کو سیاسی بے یقینی کے سبب ٹریڈنگ کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمی کا رجحان مثبت میں تبدیل ہو گیا تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 161 پوائنٹس بڑھا تھا۔

12 فروری کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شدید مندی کا رجحان رہا تھا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1878 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی، ماہرین نے اس کی وجہ ’سیاسی بے یقینی‘ کو قرار دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے انتخابات کے بعد اگلے روز (9 فروری) انڈیکس میں 2300 پوائنٹس کی شدید مندی دیکھی گئی تھی، تاہم یہ بحالی کے بعد 1200پوائنٹس کی تنزلی پر بند ہوا تھا۔

الیکشنز سے ایک روز قبل (7 فروری) انڈیکس 344.85 پوائنٹس اضافے کے بعد 64 ہزار 143 پر پہنچ گیا تھا، جبکہ 6 فروری کو بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 796 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں