گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ سے بند شاہراہِ قراقرم بحالی کے لیے 23 فروری تک ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے۔

ڈپٹی کمشنر دیامر اور اسسٹنٹ کمشنر گلگت نے اپنے علحیدہ علحیدہ اعلامیے میں ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ شاہراہِ قراقرم گلگت، راولپنڈی سیکشن مختلف مقامات پر بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہے، اس لیے 23 فروری تک گاڑیاں چلانے سے گریز کیا جائے۔

شاہراہِ قراقرم کی بندش سے درجنوں گاڑیاں متعدد مقامات پر پھنس گئیں، گلگت بلتستان میں شاہراہِ قراقرم کی 4 دنوں سے بندش سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند ہو گئی ہے جبکہ سبزیوں اور پھلوں کی قلت پر قیمتیں 20 فیصد تک بڑھا دی گئیں۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ شاہراہِ قراقرم ایک روز قبل چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی تھی مگر جگہ جگہ پہاڑ سے پتھر گرنے پر دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ کی مکمل صفائی کے بعد 23 فروری کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بحال ہو گی، مزید کہا کہ 22 فروری تک شاہراہِ قراقرم پر پھنسے تمام سیاحوں اور مسافروں کو چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے متعلقہ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ شاہراہِ قراقرم کی بندش پر خودساختہ مہنگائی کے خلاف کارروائی کے لیے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شاہراہ بلتستان ،گلگت چترال روڈ اور استور روڈ بھی کھول دی گئی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں