میرا استعفیٰ دباؤ نہیں نظام کے خلاف بغاوت ہے، جسٹس (ر) شاہد جمیل

اپ ڈیٹ 22 فروری 2024
جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا کہ کوئی غلط کام کرنے سے بہتر ہے آپ عہدہ چھوڑ دیں — فوٹو: ڈان نیوز
جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا کہ کوئی غلط کام کرنے سے بہتر ہے آپ عہدہ چھوڑ دیں — فوٹو: ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ سے استعفیٰ دینے والے جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا ہے کہ ان کا استعفیٰ دباؤ نہیں نظام کے خلاف بغاوت ہے جبکہ فیصلے کرتے وقت ججز کو خوف ختم کرنا پڑے گا۔

لاہور میں وکلا کی تقریب سے خطاب میں جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے کہا کہ کوئی غلط کام کرنے سے بہتر ہے آپ عہدہ چھوڑ دیں، چھوٹی سی تعداد نے بار، سیاسی جماعتوں، اداروں اور نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہی سسٹم کو اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ججز بےیقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل نے منصفی کے دوران کبھی دباؤ نہ لینےکا دعویٰ کیا اور واضح کیاکہ انہوں نے دباؤ میں آکر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ان کا استعفیٰ نظام کے خلاف بغاوت ہے۔

یاد رہے کہ 2 فروری کو جسٹس شاہد جمیل خان نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردیا تھا۔

انہیں 2029 میں ریٹائر ہونا تھا اور وہ سنیارٹی لسٹ میں گیارہویں نمبر پر تھے۔

جسٹس شاہد جمال کی جانب سے ارسال کردہ استعفے میں کہا گیا تھا کہ میں نے 10 سال تک لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر فرائض انجام دیے۔

انہوں نے کہا کہ اب میں نے 1973 کے آئین پاکستان کے آرٹیکل 206 (1) کے تحت فوری طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

جسٹس شاہد جمال نے اپنے استعفے میں لکھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا جج ہونا بہت اعزازکی بات تھی لیکن ذاتی وجوہات کے باعث نئے باب کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے استعفے میں 4 اشعار بھی لکھے تھے۔

آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات

محکوم کو پیروں کی کرامات کا سود
ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات

اقبال ! یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کیلئے ایسے مقالات

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں