ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر بیان دیا، مجھے بہت شرمندگی ہے، سابق کمشنر راولپنڈی

اپ ڈیٹ 22 فروری 2024
سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ—فوٹو: ڈان نیوز
سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ—فوٹو: ڈان نیوز

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے بیان دیا تھا۔

ڈان نیوز کے مطابق لیاقت علی چٹھہ نے الیکشن کمیشن میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان سپر لیگ میں پریس کانفرنس کا بہانہ بنا کر ڈراما کیا، میں تمام ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور حکام کے آگے سرنڈر کرتا ہوں۔

انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کروانے کے بیان پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کروانے کے بیان پر معافی بھی مانگ لی ہے اور اعتراف کیا کہ ان کے لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے تھے۔

لیاقت علی چٹھہ نے بتایا کہ میرا بیان صریحاً غیرذمہ دارانہ عمل اور غلط بیانی تھی اور اعتراف کیا کہ کوئی بھی ریٹرننگ افسر دھاندلی جیسے کسی بھی عمل میں ملوث نہیں تھا، میں نے پنڈی ڈویژن میں الیکشن ڈیوٹی سرانجام دینے والے کسی بھی ریٹرننگ افسر کو کسی کی حمایت یا انتخابی عمل میں مداخلت کا حکم نہیں دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی واقعات میں مفرور ایک سیاسی جماعت کے رہنما سے میرے اچھے تعلقات تھے، میں سیاسی جماعت کے عہدیدار کی خفیہ مدد بھی کرتا تھا، میں نے 32 سال سرکاری خدمات انجام دیں، میں 13 مارچ کو ریٹائر ہو رہا تھا اور مستقبل اور سرکاری مراعات چھوٹنے سے پریشان تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعت کے رہنما میرے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے جانتے تھے، میں 11 فروری کو خفیہ طور پر لاہور گیا اور اس رہنما سے ملاقات کی، اسی ملاقات میں رہنما نے مجھے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے اور اداروں کو بدنام کرنے پر مستقبل میں اعلٰی عہدے پر فائض کرنے کی یقین دہانی کروائی، اس رہنما کے مطابق ان کی جماعت کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر یہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے اور منصوبے کو سیاسی جماعت کی اعلیٰ قیادت کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ لہٰذا میں نے انہی سیاسی جماعت کے عہدیدار کے کہنے پر عمل کیا، ابتدائی طور پر مجھے بتایا گیا کہ میں اپنے مؤقف کو لکھ کر اپنے استعفی کا حصہ بناؤں گا لیکن رہنما نے اس خیال کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ سنسنی پھیلانے میں کار آمد ثابت نہیں ہوگا، بعد ازاں تفصیلی گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ میں پریس کانفرنس منعقد کروں گا اور اس پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد سنسنی پھیلانا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈراما اور سنسنی پھیلانے کے لیے ہی میں نے پریس کانفرنس میں خودکشی کرنے اور پھانسی پر لٹکانے جیسے جذباتی بیانات دیے۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے بتایا کہ میں نے اپنے بیان میں چیف جسٹس کا نام بھی جان بوجھ کر شامل کیا جس کا مقصد عوام میں نفرت بھڑکانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد ملک میں ہونے والے انتخابی عمل کو داغدار کرنا تھا اور ایسا کرنے کے لیے اداروں پر سوالات اٹھانا ضروری تھا، یہی وجہ تھی کہ میں نے چیف الیکشن کمشنر کا نام بھی پریس کانفرنس میں لیا۔

معاملہ کیا ہے؟

یاد رہے کہ 17 فروری کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے نگران حکومت نے الیکشن کروانے کے لیے لگوایا تھا، الیکشن ٹھیک نہیں کروا سکا، استعفیٰ دیتا ہوں۔

کمشنر راولپنڈی نے کہا تھا کہ میں ڈیوٹی ٹھیک سے نہیں کر سکا، قومی اسمبلی کے 13 کے حلقوں کے نتائج تبدیل کیے گئے، ہارے ہوئے امیدواروں کو جتوایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سے 13 لوگوں کا جتوایا گیا، 70، 70 ہزار لیڈ والوں کو ہروایا گیا، میرے ماتحت یہ کام نہیں کرنا چاہ رہے تھے، میرے سامنے پریزائیڈنگ افسران رو رہے تھے۔

لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے، میرے ساتھ الیکشن کمشنر اور دیگر کو بھی سزائیں دی جائیں۔

کمشنر راولپنڈی نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ 1971کا واقعہ دوبارہ ہو، فجر کی نماز کے بعد میں نے خودکشی کی کوشش کی۔

بعد ازاں کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے ہنگامی اجلاس منعقد کرت ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

گزشتہ روز سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کےانتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرلیں تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں