متحدہ عرب امارات میں ڈبلیو ٹی او کا اجلاس، ماہی گیری، زراعت پر مذاکرات کا امکان

اپ ڈیٹ 27 فروری 2024
ڈبلیو ٹی او کے تمام 164 رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے کے قوانین کی وجہ سے کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ڈبلیو ٹی او کے تمام 164 رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے کے قوانین کی وجہ سے کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دنیا کے وزرائے تجارت ابوظہبی میں عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کے اجلاس میں سخت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جس میں ماہی گیری اور زراعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات ڈبلیو ٹی او کی 13ویں وزارتی کانفرنس کے دوسرے دن بروز منگل کو ہوں گے جو جمعرات تک جاری رہے گی۔

ڈبلیو ٹی او کے تمام 164 رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے کے قوانین کی وجہ سے کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے لیکن ماہی گیری کی سبسڈی سے متعلق ایک نئے عالمی معاہدے پر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

غیر قانونی، غیر اعلانیہ اور غیر منظم ماہی گیری میں تعاون کرنے والی سبسڈی پر پابندی لگانے کے 2022 کے ایک معاہدے کے بعد ڈبلیو ٹی او کو ایک دوسرے پیکج کو ختم کرنے کی امید ہے جو زیادہ ماہی گیری اور گنجائش کو بڑھانے والی سبسڈی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ایک سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم معاہدے کے قریب ہیں، یہ یقینی طور پر قابل عمل ہے۔

ممکنہ معاہدے کو اچھا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ آخری مراحل کے لیے تھوڑا سا سمجھوتہ اور تھوڑی سی سیاسی مرضی کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ 2022 میں ہونے والا معاہدہ ابھی نافذ ہونا باقی ہے کیونکہ کافی ممالک نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

لیکن اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا، جو کہ 1995 میں عالمی ادارہ تجارت کی تشکیل کے بعد سے ڈبلیو ٹی او کی مکمل رکنیت کے ذریعے مکمل ہونے والے دوسرے معاہدے کی نشان دہی کرتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں