اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں بانی تحریک انصاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت 5 مارچ تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر، سلمان صفدر، سکندر ذوالقرنین و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان، شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی اور صاحبزے زین قریشی کے علاوہ سنیٹر ولید اقبال و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ پہلے شاہ محمود قریشی کی سزا معطلی کی درخواست نہیں تھی، آج آئی، جس پر عدالت نے شاہ محمود قریشی کی سزا معطلی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹرز کے لیے درخواست گئی ہے، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس کیس میں نوٹسز ہوگئے ہیں، آپ اپنے نوٹس لے آئیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نے بتایاہے مگر پراسیکوشن کا معاملہ زیر التوا ہے، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہم نے نوٹس کیا ہے، باقی پراسیکوشن کی تعیناتی ہمارا مسئلہ نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ 2 کیسز میں اپیلیں ہیں، پہلے کس اپیل کو سن لیں؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں اپیل پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا آئی ہے، آپ دونوں ملکر فیصلہ کریں کہ ہم نے پہلے کس کیس کو سننا ہے۔

سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ سائفر کیس میں 25 گواہان کو پیش کیا اور راتوں رات بیانات قلمبند کرائے گئے۔

سلمان صفدر نے استدعا کی کہ جج صاحب اور پراسیکوشن نے میچ کھیلا تھا، آج ہمیں سنیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے اگر کوئی غلطی کی ہے، ہم ٹھیک کریں گے۔

چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ہم ایک تاریخ دے رہے ہیں، پراسیکوٹر ہو یا نہ ہو ہم کیس سن لیں گے۔

بعد ازاں، عدالت نے سائفر اپیلوں پر سماعت ملتوی کرنے کی ڈپٹی اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کر لی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر 5 مارچ تک سماعت ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ 30 جنوری کو سائفر کیس میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

یکم اکتوبر 2022 کو وفاقی کابینہ نے عمران خان و دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی تھی اور اس معاملے کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے سپرد کی گئیں۔

گزشتہ برس 23 اکتوبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت نے عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کردی تھی۔

سائفر کیس

سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، اسی کیس میں سابق وزیر اعظم اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔

پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی ار) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی سائفر موصول ہوا، 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے اور ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمے میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

سائفر کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’انہوں نے بنی گالا (عمران خان کی رہائش گاہ) میں 28 مارچ 2022 کو خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے جزیات کا غلط استعمال کرکے سازش تیار کی جائے‘۔

مقدمے میں کہا گیا کہ ’ملزم عمران خان نے غلط ارادے کے ساتھ اس کے وقت اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو اس خفیہ اجلاس میں سائفر کا متن قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے تبدیل کرتے ہوئے منٹس تیار کرنے کی ہدایت کی‘۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جان بوجھ کر غلط ارادے کے ساتھ اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ امور کو کبھی واپس نہیں کی۔

مزید بتایا گیا کہ ’مذکورہ سائفر (کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز) تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے، نامزد شخص کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیرمجاز حصول اور غلط استعمال سے ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی نظام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار کمپرومائز ہوا ہے‘۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزم کے اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا۔

ایف آئی اے میں درج مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دے دی، اسی لیے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 ساتھ مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشنل خفیہ معلومات کا غلط استعمال اور سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز)کا بدنیتی کے تحت غیرقانونی حصول پر درج کیا گیا ہے اور اعظم خان کا بطور پرنسپل سیکریٹری، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر ملوث معاونین کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا‘۔

تبصرے (0) بند ہیں