اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تضحیک کے کیس میں گرفتار صحافی اسد طور کو ان کی والدہ اور وکیل ایمان مزاری سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر نے اسد طور کو ملاقات کی اجازت دی ہے،
صحافی اور ولاگر اسد طور 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حراست میں ہیں۔

بعد ازاں ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسد طور کی گرفتاری کے بعد ان کی والدہ نے ملاقات کے لیے مقامی عدالت میں درخواست دی تھی، ہم نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ والدہ اور وکلا کو ملاقات کی جازت دی جائے، اسد کی والدہ اور ہمیں دن ایک بجے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچ طلبہ کیس میں کل بھی این آئی ایچ سے ایک طالب علم لاپتہ ہوا ہے، نگران وزیراعظم کی پیشی کے چند گھنٹوں بعد طالبعلم امتیاز عالم کو این آئی ایچ سے لاپتا کردیا گیا تھا، آج ہم نے امتیاز عالم کی گمشدگی کی درخواست بھی دائر کردی ہے، ہم نے آج ہی امتیاز عالم گمشدگی کیس کی سماعت کی استدعا کی ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے اسد طور کو انتخابات سے قبل تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ’بلے‘ کے نشان سے محروم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اعلٰی عدلیہ کے خلاف ’بد نیتی پر مبنی مہم‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کرلیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن اور اسد طور کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر نے ’ڈان ڈاٹ کام‘ سے بات کرتے ہوئے اسد طور کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ اسد طور ہفتے کو جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دینے اور عدلیہ کے خلاف مہم کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے لیے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر پہنچے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم نامہ حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کے دفتر گئی جس میں ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی تھی کہ اسد طور کو ہراساں نہ کیا جائے لیکن اس کے باوجود انہیں قانونی ٹیم کے بغیر ایف آئی اے کے احاطے میں لے جایا گیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں