رہنما پیپلزپارٹی سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ الیکشن لڑنے اور اسلام آباد سے اپنی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جوکہ 8 فروری کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ان کی کامیابی کے بعد خالی ہوگئی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے چوہدری الیاس مہربان سے ہوگا، جس کے لیے 14 مارچ کو قومی اسمبلی میں پولنگ ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مقرر کردہ آخری تاریخ گزشتہ روز (اتوار کو) ختم ہونے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے کُل 19 امیدواروں نے سینیٹ کی دیگر 5 نشستوں (3 بلوچستان اور 2 سندھ سے) کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جوکہ سینیٹ اراکین کے عام انتخابات میں حصہ لینے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں جیتنے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔

یہ نشستیں آئین کے آرٹیکل 223 کے تحت خالی ہوئی ہیں جو واضح طور پر دوہری رکنیت پر پابندی عائد کرتا ہے، آرٹیکل کی ذیلی دفعہ 4 کے تحت اگر پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا کوئی رکن دوسری نشست کے لیے امیدوار بنتا ہے (جسے وہ اپنی پہلی نشست کے ساتھ برقرار نہیں رکھ سکتا) تو کسی دوسرے ایوان کی نشست کے لیے انتخاب جیتنے کے ساتھ ہی اس کی پہلی نشست خالی ہو جاتی ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے 29 فروری کو ملتان سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے بعد رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا تھا اور گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے شدہ پاور شیئرنگ فارمولے کے مطابق انہیں سینیٹ کا اگلے چیئرمین بنایا جائے گا۔

اگرچہ اس بات کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نئے تشکیل شدہ 8 جماعتی حکمران اتحاد کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے امیدوار ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی نے بھی ان کے خلاف کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں، جس سے اِن دعووں کی تصدیق ہوتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے جہاں اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر انتخاب کے لیے پولنگ ہوگی لہٰذا وہ یہ نشست آسانی سے جیت سکتی تھی۔

چوہدری الیاس مہربان پی ٹی آئی کے پرانے رکن ہیں اور اس سے قبل 2013 کے انتخابات میں اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ چکے ہیں جس میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے ہار گئے تھے۔

یہ امر دلچسپ ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کے شیڈول کے اعلان کے باوجود واضح آئینی شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ اجلاس میں سند اسمبلی کے 2 اراکین نے شرکت کی، ان میں نثار کھوڑو اور جام مہتاب ڈہر شامل ہیں، دونوں پاکستان پیپلز پارٹی سے ہیں اور پہلے ہی سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

دونوں کے نام اُن 6 سینیٹرز کی فہرست میں شامل ہیں جن کی نشستیں خالی ہوئی ہیں، فہرست میں شامل دیگر افراد میں قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے والے یوسف رضا گیلانی اور مولانا عبدالغفور حیدری، بلوچستان اسمبلی کی نشستیں جیتنے والے سرفراز بگٹی اور شہزادہ احمد عمر شامل ہیں۔

سرفراز بگٹی نے گزشتہ برس اگست میں نگران وزیر داخلہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا، تاہم وہ دسمبر میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے مستعفی ہو گئے تھے۔

سندھ سے 7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع

سینیٹ کی 2 جنرل نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے 7 امیدواروں نے اپنے کاغذات صوبائی چیف الیکشن کمشنر کراچی کو جمع کرا دیے۔

کاغذات جمع کرانے والوں میں پیپلزپارٹی کے جام سیف اللہ خان، محمد اسلم ابڑو، وقار مہدی اور مختار احمد دھامرا اور سنی اتحاد کونسل کے نذیر اللہ، شازیہ سہیل اور جمیل احمد شامل ہیں۔

وقار مہدی اس وقت سینیٹر ہیں لیکن وہ 11 مارچ کو 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔

بلوچستان سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے 12 امیدوار

بلوچستان سے سینیٹ کی 3 خالی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے مختلف جماعتوں کے 12 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔

25ویں آئینی ترمیم کے تحت خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اس بار صرف 96 اراکین چیمبر میں پہنچیں گے کیونکہ سابقہ قبائلی علاقوں کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔

کاغذات جمع کرانے والوں میں پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے کہودہ بابر شامل ہیں۔

دیگر امیدواروں میں مبین احمد خلجی (بی اے پی)، سردار زادہ میر حربیار ڈومکی (پیپلزپارٹی)، میر دوستین ڈومکی (مسلم لیگ ن)، شکیل احمد درانی (پیپلزپارٹی)، طارق مسوری، کاشف عزیز، سید محمود شاہ (جمعیت علمائے اسلام-ف)، عبدالشکور خان، دانش حسین لانگو اور محمد خان شامل ہیں۔

سینیٹ کی کل تعداد 100 ہے، جس میں 4 صوبوں سے 23، سابق فاٹا اور اسلام آباد سے 4، 4 اراکین شامل ہیں، صوبے کے لیے مختص کردہ 23 نشستوں میں 14 جنرل نشستیں، 4 خواتین کے لیے، 4 ٹیکنوکریٹس اور ایک اقلیتی رکن کے لیے مختص ہے۔

نصف سینیٹرز اپنی 6 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائر ہونے والے ہیں اور 14 مارچ کو 6 خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن 48 نئے سینیٹرز کے انتخاب کا شیڈول جاری کرے گا جن میں سے ہر صوبے سے 11 سینیٹرز (جنرل اور ٹینوکریٹس کی نشتوں کے لیے) ہوں گے، اسلام آباد سے 2 اور پنجاب اور سندھ سے 2 اقلیتی اراکین ہوں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں