• KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:50pm
  • LHR: Maghrib 7:08pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:18pm Isha 8:58pm
  • KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:50pm
  • LHR: Maghrib 7:08pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:18pm Isha 8:58pm

آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی

شائع June 20, 2024
—فائل/فوٹو: ڈان
—فائل/فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں، آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس نعیم اختر نے درخواست پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر اور پی ٹی آئی وکیل سلمان اکرم راجا عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل کا آغاز کردیا۔

وکیل نے بتایا کہ کیس میں آئین کے آرٹیکل 219(سی) کی تشریح کا معاملہ، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں کیس کی تھوڑے حقائق بتا دیجیے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 14 فروری کو الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کے لیے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے، ٹربیونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، تمام ہائی کورٹس سے خطوط کے ذریعے ججز کے ناموں کی فہرستیں مانگی گئیں، خطوط میں ججز کے ناموں کے پینلز مانگے گئے، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججز کے نام دیے گئے، دونوں ججز کو الیکشن ٹربیونلز کے لیے نوٹیفائی کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 اپریل کو مزید دو ججز کو بطور الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے گئے۔

دوران سماعت ہائی کورٹ کے لیے قابل احترام کا لفظ کہنے پر چیف جسٹس نے وکیل کو روک دیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کو قابل احترام کہہ رہے ہیں، یہ ججز کے لیے کہا جاتا ہے،انہوں نے دریافت کیا کہ انگریزی زبان انگلستان کی ہے، کیا وہاں پارلیمان کو قابل احترام کہا جاتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پارلیمنٹیرین ایک دوسرے کو احترام نہیں دیتے، ایک دوسرے سے گالم گلوچ ہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ احترام ہو، الیکشن کمیشن کو قابل احترام کیوں نہیں کہتے؟ کیا الیکشن کمیشن قابل احترام نہیں؟

بعد ازاں وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 4 ٹربیونلز کی تشکیل تک کوئی تنازع نہیں ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے دریافت کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرسکتے؟ کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازع بنانا لازم ہے؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازع تھا، رجسڑار ہائی کورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں؟ چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر بیٹھ جاتے تو تنازع کا کوئی حل نکل آتا، بیٹھ کر بات کرتے تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتے، کیا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کا ملنا منع ہے؟

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائی کورٹس کو خطوط لکھے، تنازع نہیں ہوا، لاہور ہائی کورٹ کے علاوہ کہیں تنازع نہیں ہوا، بلوچستان ہائی کورٹ میں تو ٹربیونلز کی کارروائی مکمل ہونے کو ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ کوئی انا کا مسئلہ ہے؟

بعد ازاں الیکشن کے انعقاد اور الیکشن ٹربیونل کے قیام کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الیکشن کمیشن پر برہم ہوگئے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آیا الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بات کیوں نہیں کی؟ آئین میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی جج سے ملاقات نہیں کرسکتے، ملاقات کرنے میں انا کی کیا بات ہے؟ دونوں ہی آئینی ادارے ہیں، الیکشن کمیشن متنازع ہی کیوں ہوتا ہے؟ آپ لوگ الیکشن کروانے میں ناکام رہے۔

اسی کے ساتھ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات اٹھا دیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں ،آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے، آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، آرٹیکل 219 سیکشن سی نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہم نے آئین و قانون کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، عدالتی فیصلوں پر حلف نہیں لیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ میں نے قانون نہیں بنایا، جنرل بات سے زیادہ نہیں کرسکتا، آرڈیننس کا دفاع نہیں کررہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیسز کی ذمہ داری میری ہے، چیف جسٹس نے کہا وکیل سے مکالمہ کیا کہ اپنی کمزوری کو وجہ نہ بنائیں، وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ میں نے آخری بار سنا تھا تو لاہور ہائی کورٹ میں شاید 62 ججز تھے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ٹربیونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر ریمارکس دیے کہ ریٹائرڈ ججزکا قانون کب بنایا گیا؟ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جاسکتا ہے؟ آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی ؟ کیا ایمرجنسی تھی ؟ الیکشن ایکٹ توپارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی؟

وکیل نے بتایا کہ آرڈیننس کابینہ اور وزیر اعظم کی خواہش تھی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے یا کابینہ کی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائی کورٹ کے فیصلے کی نفی کی گئی ہے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجا کو ججزکے لیے ہینڈ پک کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو ہائی کورٹ کے کچھ ججز پر تحفظات ہیں؟ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے سے ایسے ریمارکس کو ہم تسلیم نہیں کریں گے، آرڈیننس کو دیکھ کر ہینڈ پک کا لفظ ہم استعمال کر رہے ہیں، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کدھر سے آگیا؟ کوئی ایمر جنسی ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے، یہ بھی تو الیکشن میں مداخلت ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا؟

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرڈیننس کو لاہور، اسلام آباد ہائی کورٹس میں چیلنج کیا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ مختلف ہائی کورٹس کیوں؟ آرڈیننس تو پورے ملک میں لگے گا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ 3 رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے اسستدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا جائے، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل ہوگا تو ہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بامعنی مشاورت کر سکیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سلمان اکرم راجا صاحب حکم امتناع جاری کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں، ہم الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مشاورت کے لیے روک نہیں رہے، ممکنہ طور پر پیر کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بطور جج سپریم کورٹ حلف لے لیں گے۔

ساتھ ہی عدالت نے پی ٹی آئی کے 9 امیدواروں کو فریق بنانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دیگر صوبوں میں ٹربیونلزکی تشکیل کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے طلب کرلیں۔

جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ دیکھنا چاہتے ہیں ٹریبونلز کی تشکیل کا مسئلہ دیگرصوبوں میں کیوں نہیں ہوا؟ معاملہ کمیٹی کے سامنے جتنی جلدی ممکن ہورکھا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی کے ایک ممبرلاہوردوسرے کراچی میں ہیں ، آئندہ ہفتے ہی معاملہ کمیٹی کے سامنے رکھا جاسکےگا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے تمام نامزد ججزکو ٹریبونل کے لیے نوٹیفائی کردیا ہے، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کومعطل کیا جائے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

حکم نامہ جاری

بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوا دیا۔

حکم نامے کے مطابق الیکشن کمیشن نے 29 مئی کی لاہور ہائی کورٹ کی ججمنٹ پر اپیل دائر کی، الیکشن کمیشن نے استدعا کہ کہ الیکشن ٹربیونل کی تعیناتی کا کیا ہائیکورٹ اختیار رکھتا یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ الجہاد کیس، ریاض الحق کیس کی روشنی میں دیا، الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی تشریح قانون کے مطابق نہیں۔

حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق رٹ پٹیشن نہیں بنتی کیونکہ کنسلٹیشن جاری تھی، سلمان اکرم راجا آئندہ سماعت پر خود دلائل دیں گے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ الیکشن کمیشن جوڈیشل باڈی نہیں جو ججز، ٹریبونل لگائے، سلمان اکرم راجا کے مطابق الیکشن کمیشن کو انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنی چاہیے تھی نہ کہ براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرتے۔

حکم نامے کے مطابق سلمان اکرم راجا نے استدعا کی کہ 5 رکنی لارجر بینچ پریکٹس اینڈ پروسیجر 2023 کے ذریعے قانون کی تشریح کرے، سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ لیگل تشریح کاہے، فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کی اپیلیں پریکٹس آینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی کو بھجوائی جاتی ہیں، تین رکنی کمیٹی جلد از جلد لارجر بینچ تشکیل دے، الیکشن کمیشن تمام ہائیکورٹس کا ٹربیونل سے متعلق نوٹیفکیشنز عدالت میں جمع کروائے، عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔

یاد رہے کہ 14 جون سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل تشکیل کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

14 جون کو ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل الیکش کمیشن کا اختیار ہے، لاہور ہائی کورٹ کا ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ قانون کے خلاف ہے اور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور اپیل کو کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے 12 جون کو 8 ٹربیونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کیے تھے۔

کارٹون

کارٹون : 17 جولائی 2024
کارٹون : 16 جولائی 2024