فیکٹ چیک: سہیل وڑائچ کا مریم نواز پر مبینہ تنقیدی ریمارکس والا وائرل ویژول جعلی ہے

شائع September 2, 2025
— فائل فوٹو: ڈان نیوز
— فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے حامیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مبینہ ویژول شیئر کرنا شروع کیا ہے، جس میں ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹ ’ سیاست ڈاٹ پی کے’ کے حوالے سے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا ایک بیان دکھایا گیا ہے، جو پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے متعلق ہے۔

تاہم آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم کی جانب سے کی گئی جانچ پڑتال میں یہ پوسٹ جعلی ثابت ہوئی۔

واضح رہے کہ پنجاب اس وقت بدترین سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہے، جو وسیع علاقوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جو لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں شہری سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔

دعویٰ

یکم ستمبر کو ایکس پر ایک صارف نے، جو اپنے سابقہ پوسٹس اور نام کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا حامی معلوم ہوتا ہے، ایک پوسٹ شیئر کی، اس میں سہیل وڑائچ کے حوالے سے ایک بیان منسوب تھا۔

تصویر میں درج متن یہ تھا کہ ’مریم نواز جس قسم کا اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کروا رہی ہیں اس کا برا اثر یہ ہوتا ہے کہ دماغ کے خلیے سکڑ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مریم بچوں والی حرکات کررہی ہیں، اور حد سے زیادہ ضدی ہیں ورنہ کوئی جاہل ہی ہوگا جو سیلاب کی امداد پر اپنی تصویریں لگائے گا۔‘

اس پوسٹ کو 47800 سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔

یہی پوسٹ دیگر پی ٹی آئی حامیوں نے بھی شیئر کی، جنہیں مجموعی طور پر 38,000 سے زیادہ ویوز ملے، جیسے اس پوسٹ کو یہاں، یہاں اور یہاں شیئر کیا گیا۔

فیکٹ چیک

پنجاب کے سیلاب اور حکومت کی کارکردگی پر عوامی دلچسپی کے باعث اس دعوے کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کیا گیا۔

ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ تصدیق کرنے کی کوشش کی گئی کہ آیا ’ سیاست ڈاٹ پی کے’ نے کوئی ایسی پوسٹ کی ہے، لیکن کوئی نتیجہ نہیں ملا، پلیٹ فارم کے آفیشل ایکس اور فیس بک اکاؤنٹس کا جائزہ لینے پر بھی کچھ نہیں ملا۔

مزید برآں، یہ دیکھنے کے لیے کہ سہیل وڑائچ نے کہیں ایسا بیان دیا ہو، کی ورڈ سرچ کی گئی لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔

وائرل پوسٹ کے قریب سے معائنے پر کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، مثال کے طور پر بائیں کونے میں موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر یہ کسی ایسی غیر متعلقہ پوسٹ پر لے گیا جس کا سہیل وڑائچ کے بیان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اصل اور جعلی ٹیمپلیٹس کے موازنے میں بھی فرق واضح ہوا، ’ سیاست ڈاٹ پی کے’ کے مستند ڈیزائن میں کیو آر کوڈ کے نیچے ’ Source’ کا لفظ باقاعدہ فونٹ میں آتا ہے، جس میں ’ S’ بڑا لکھا ہوتا ہے۔

مگر وائرل پوسٹ میں ’ source’ بولڈ فونٹ میں اور چھوٹے حرف’ s’ کے ساتھ درج تھا۔

دیگر تضادات میں غلط تاریخ کا اندراج (’ Sept01,2025’ بغیر اسپیس اور غیر معیاری مخفف کے ساتھ) اور اصل پوسٹس کے مقابلے میں بڑا لوگو شامل ہے۔

نتیجہ: گمراہ کُن

لہٰذا فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ وائرل پوسٹ میں سہیل وڑائچ نے مریم نواز کے خلاف تنقیدی ریمارکس دیے ہیں، غلط ہے، یہ جعلی ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ سہیل وڑائچ نے ایسا کوئی بیان دیا ہو۔

کارٹون

کارٹون : 30 جنوری 2026
کارٹون : 29 جنوری 2026