خیبرپختونخوا میں سیلاب زدگان کی ناکافی امداد کے دعوے پر پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف دینے کے لیے ناکافی اقدامات کے دعوے پر قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آگئیں، پی ٹی آئی نے اپنے اراکین کی نااہلی پر ایوان کا بائیکاٹ کیا۔
خیبرپختونخوا میں 15 اگست سے شروع ہونے والی ریکارڈ بارشوں نے صوبے بھر میں تباہی مچا دی، موسلادھار بارشوں نے متعدد گھر تباہ اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے، بالخصوص بونیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی۔ موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب کے دوران حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی اجلاس میں قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) کی جانب سے خیبرپختونخوا میں سیلاب زدگان، خاص طور پر بونیر، جو صوبے کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، کو فراہم کی جانے والی امداد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے ’ اتنی مدد نہیں کی جتنی کرنی چاہیے تھی۔’
بیرسٹر گوہر نے ایوان میں کہا کہ’ میں اس فورم پر کہتا ہوں کہ ہمارا این ڈی ایم اے سے اختلاف رہے گا۔ میں نے پرسوں کہا تھا کہ این ڈی ایم اے نے بونیر میں ہمیں صرف کچھ سامان دیا، جبکہ 236 افراد جاں بحق ہوئے، 120 زخمی ہیں، اور 1,470 دکانیں اور 875 گھر تباہ ہوگئے ہیں۔’
اس دوران، قانون و انسانی حقوق کے وزیر اعظم نذیر تارڑ نے بیرسٹر گوہر کی تقریر کو روکا، جس کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے پیشکش کی کہ اپوزیشن کے لیے این ڈی ایم اے کے ہیڈ آفس کا دورہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بیرسٹر گوہر کی شکایت کو ’ سیاست برائے سیاست’ قرار دیا اور کہا کہ جماعت کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آفات سے نمٹنے کا نظام تین سطحوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ضلع کی سطح پر ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہے جسے ڈپٹی کمشنرز چلاتے ہیں؛ پھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہے جسے صوبہ چلاتا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ’ این ڈی ایم اے کا کردار معلومات کے تبادلے کے گرد گھومتا ہے۔ میں تفصیل سے وضاحت دوں گا، لیکن اگر اپوزیشن محض سیاست کے لیے سوال کرے اور پھر واک آؤٹ کر جائے تو پھر یہ کون سی اسمبلی ہے؟’
اسپیکر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین یہ دعویٰ کریں گے کہ انہیں ایوان میں بولنے کا موقع نہیں ملا، حالانکہ بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر کئی مواقع پر بول چکے ہیں۔
بعدازاں وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ این ڈی ایم اے کو سیلابی ریلیف اور دیگر سرگرمیوں کے لیے 1.3 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
وزیرقانون نے ایوان میں کہا کہ’ قوم کو سیلابی ریلیف کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ریلیف آپریشنز میں تعاون کر رہی ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے الرٹس جاری کرتا ہے اور اس کی ایک موبائل ایپ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم تجویز کرتے ہیں کہ متاثرہ علاقوں کے لوگ یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں؛ اس کی 92 فیصد پیش گوئیاں درست ہوتی ہیں۔’
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ’ ریلیف کا راستہ طویل ہے، اس لیے ہم قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے کھڑی ہو۔’
’بلوچستان پر بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں، طلال چوہدری
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان میں لاپتا افراد کے مسئلے پر بات کی اور کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان حکومت اور صوبے کی دیگر سیاسی شخصیات کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ حکومت لاپتا افراد کے معاملے پر کوئی چیز برداشت نہیں کرے گی۔ کوئی ادارہ الزام لینا یا کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا۔ حکومت ہمیشہ دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینے یا آل پارٹیز کانفرنس کرنے کے لیے تیار ہے۔’
طلال چوہدری نے کہا کہ اس ہفتے کے آغاز میں کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے جس جلسے میں خودکش دھماکا ہوا تھا، وہ جلسہ وزارت داخلہ کی سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ’ سیاسی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے نرم اہداف ہوتے ہیں، اسی لیے ہم اصرار کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے پروگرامز کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس ضروری ہے۔ ایسے پروگرامز کے لیے بہت زیادہ معلومات درکار ہوتی ہیں، اسی وجہ سے ہم بغیر کلیئرنس کے اجتماعات کو حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔’
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان حکومت اور نمایاں سیاسی شخصیات سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ اس سال کے شروع میں جعفر ایکسپریس حملے کے بعد کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ’ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمیں بیٹھنے کی ضرورت ہے، مرکز صوبوں کے ساتھ دہشت گردی، نیشنل ایکشن پلان یا دیگر معاملات پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی کی اس لعنت کو صرف اسی صورت شکست دی جا سکتی ہے جب ہم سیاسی طور پر متحد ہوں۔’
علاوہ ازیں وزیر مملکت نے کہا کہ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو اسلام آباد میں جاری دھرنے میں شریک ہے۔ تاہم انہوں نے اس گروپ کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کن افراد سے رابطے میں ہیں۔
یہ گروپ اپنے گرفتار اراکین کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہا ہے، جن میں مرکزی کنوینر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ’ اس ملک کی بیٹیاں اسلام آباد کی ایک اہم سڑک پر بیٹھی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہم ان کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ درست نہیں ہے۔ ہم سیکیورٹی فراہم کرنے اور ان کی سہولت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ’ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ معاملات قانونی طور پر حل ہوں، لیکن بہت سے لوگ صرف تصویریں کھنچوانے اور پوائنٹ اسکورنگ کے لیے احتجاج میں جا رہے ہیں۔’ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
وزیرمملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ’ مجھے کوئی اعتراض نہیں کہ میں حکومت کی طرف سے وہاں جاؤں، ہمارا رابطہ رہا ہے، لیکن ان کے مطالبات ہم پورے نہیں کر سکتے۔ عدالتوں نے فیصلے دیے ہیں؛ ہم لوگوں کو بس ضمانت پر چھوڑ کر گھر نہیں بھیج سکتے۔’












لائیو ٹی وی