امریکا نے وینزویلا پر حملہ کردیا، دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا
ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکی فوج نے وینزویلا پر حملہ کردیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر کے مطابق ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکے ہوئے، سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور طیاروں کی پروازیں نظر آئیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر کے جنوبی حصے میں، ایک بڑے فوجی اڈے کے قریب، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ صورتحال کس وجہ سے پیدا ہوئی، جو تقریباً رات دو بجے شروع ہوئی، یا یہ واقعات شہر کے کن حصوں میں پیش آئے۔
’دھماکے بہت زور دار تھے‘
کاراکس میں مقیم صحافی وینیسہ سلوا نے اپنی کھڑکی سے دھماکے کا منظر دیکھا۔
بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز بہت زور دار تھی جس سے ان کا گھر لرزنے لگا۔ وینیسہ نے بتایا کہ کاراکس ایک وادی میں واقع ہے، اس لیے آواز پورے شہر میں گونجتی رہی۔
’میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ میں خوفزدہ تھی کہ دھماکے بہت قریب محسوس ہو رہے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ اب شہر میں خاموشی ہے، لیکن لوگ ایک دوسرے کو پیغامات بھیج کر خیریت دریافت کر رہے ہیں۔
ان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انہوں نے آسمان سے کچھ گرتے دیکھا اور دس سیکنڈ بعد ایک زور دار دھماکا سنائی دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے وعدے کرتے رہے ہیں اور انہوں نے صدر نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا دانشمندانہ ہوگا۔
مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر تک رسائی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے جانے والے تمام پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ پابندیوں میں توسیع اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے بھی کیے گئے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس وقت کاراکاس پر بمباری ہو رہی ہے اور فوری عالمی اجلاس کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے اپنے دعووں کی مزید تفصیل نہیں دی۔
امریکا نے خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جن میں طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں منشیات سے منسلک ایک علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم کارروائی کی نوعیت اور ادارے کی وضاحت نہیں کی گئی۔
کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ مادورو حکومت منشیات اسمگلنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتی ہے۔
وینزویلا میں ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ
امریکی صدر کی جانب سے حملے کے حکم کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
وینزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری بیان کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد اور مذمت کرتا ہے۔‘












لائیو ٹی وی