ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا پر دوبارہ حملے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وینزویلا میں موجود قیادت نےتعاون نہ کیا تو تو امریکا وہاں دوسری فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن ملک کو اپنے کنٹرول میں لے کر بعد میں انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات سے لاطینی امریکا میں مزید امریکی فوجی مداخلت کے امکانات سامنے آئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر کولمبیا اور میکسیکو امریکا کو منشیات کی اسمگلنگ کم کرنے میں ناکام رہے تو انہیں بھی فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کولمبیا مجھے اچھا لگتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا کا قریبی اتحادی کیوبا خود ہی گرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے اور اس کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی اصرار کیا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا پر امریکا ہی قابض ہے، تاہم کاراکاس میں نئی قیادت سے بھی رابطے میں ہے۔
دوسری طرف وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ نہ پوچھیں کہ وہاں کون انچارج ہے کیونکہ جواب متنازع ہوگا، بعد ازاں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انچارج ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کارروائی تیل کے لیے ہے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ زمین پر امن کے لیے ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا میں انتخابات بعد میں ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا ملک کو چلائے گا، اسے ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ٹوٹا ہوا ملک ہے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے دیگر امریکی مخالفین پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کولمبیا کا رہنما زیادہ عرصہ نہیں چلے گا، کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام کیوبا گرنے کے قریب ہے اور اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہاں کی قیادت کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مادورو حکومت کے باقی حصے کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے اہداف پورے ہوں، جن میں وینزویلا کے وسیع خام تیل کے ذخائر تک امریکی سرمایہ کاری کی رسائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس وقت نیویارک کے ایک حراستی مرکز میں قید ہیں اور منشیات کے الزامات پر پیر کے روز عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔
امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری نے تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کے مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
مادورو حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی اقتدار میں ہیں اور انہوں نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔
63 سالہ مادورو کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیوں میں جکڑی گئی تصاویر نے وینزویلا کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا، یہ کارروائی 37 برس قبل پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے متنازع مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔











لائیو ٹی وی