وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچاڈو کا وطن واپسی کا اعلان، عبوری صدر کو مسترد کردیا
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت کاراکاس میں قائم عبوری حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر بیان کے بعد یہ ان کا یہ پہلا عوامی سطح پر ردعمل ہے۔
نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آئیں گی۔
ماچاڈو گزشتہ ماہ ناروے گئی تھیں جہاں انہوں نے نوبیل امن انعام وصول کیا اور اس کے بعد سے وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔
انہوں نے فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
ماچاڈو نے ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد، سیاسی جبر، بدعنوانی اور منشیات کی اسمگلنگ کی اہم معماروں میں سے ایک ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز جو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں، مادورو کے دور میں وینزویلا کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔
ماچاڈو کا کہنا تھا کہ روڈریگز کو وینزویلا کے عوام مسترد کر چکے ہیں اور ووٹرز اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کے مطابق آزاد اور شفاف انتخابات میں اپوزیشن نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی اور انہیں اس میں کوئی شک نہیں۔
ماچاڈو نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا کو براعظم امریکا کا توانائی مرکز بنائیں گی، ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام مجرمانہ ڈھانچوں کو ختم کریں گی اور ان لاکھوں وینزویلا کے شہریوں کو واپس لائیں گی جو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
’اکتوبر 2025 کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں‘
انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے بعد ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آخری بار بات اسی دن ہوئی تھی جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
ماچاڈو کو یہ انعام اس جدوجہد پر دیا گیا جسے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آمریت کے خلاف جدوجہد قرار دیا تھا۔
انہوں نے امریکی کارروائی کو انسانیت، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔
تاہم یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔
سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ
دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ جو صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی، اس کے مطابق مادورو کے قریبی وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہی جائزہ اس فیصلے کی ایک وجہ بنا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپوزیشن رہنما کے بجائے مادورو کی نائب صدر کی حمایت کی۔
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کیا تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کی سیاسی صورتحال پر باقاعدگی سے بریفنگ لیتے ہیں اور ان کی ٹیم ایسے فیصلے کر رہی ہے جو امریکا کے مفادات کے مطابق ہوں اور وینزویلا کو اس کے عوام کے لیے ایک بہتر ملک بنانے میں مدد دیں۔











لائیو ٹی وی