وینزویلا امریکا کو 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرے گی اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کی حیثیت سے ان کے کنٹرول میں ہوگی۔
یہ پیش رفت اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ وینزویلا کی حکومت ٹرمپ کے اس مطالبے پر ردعمل دے رہی ہے جس کے تحت امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی دی جائے، بصورت دیگر مزید فوجی مداخلت کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا اور نجی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دیں۔
وینزویلا کے پاس اس وقت لاکھوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ ٹینکوں میں موجود ہے، جسے دسمبر کے وسط سے عائد امریکی برآمدی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یہ پابندیاں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بڑھتے امریکی دباؤ کا حصہ تھیں، جو اس ہفتے امریکی افواج کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے کی کارروائی اور مادورو کو حراست میں لیے جانے پر منتج ہوئیں۔
وینزویلا کے اعلیٰ حکام امریکا پر ملک کے وسیع تیل ذخائر چرانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل تک پابندیوں کے تحت موجود تیل امریکا کے حوالے کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کو یقینی بنانے کے لیے ان کے کنٹرول میں رہے گی۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو سونپی گئی ہے اور تیل جہازوں سے نکال کر براہِ راست امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر اس خام تیل کو امریکا بھیجنے کے لیے چین جانے والے بعض کارگو کی ازسرنو تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران خاص طور پر 2020 میں وینزویلا کے تیل سے وابستہ کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد، چین وینزویلا کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
تیل کی صنعت سے وابستہ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جلد ہو تاکہ وہ اسے ایک بڑی کامیابی قرار دے سکیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے سرکاری حکام اور ریاستی تیل کمپنی پیٹرولیو ڈی وینزویلا (پی ڈی وی ایس اے) نے اس پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
’وینزویلا کے پاس معاشی بحالی کا موقع‘
امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے کہا کہ وینزویلا کے بھاری خام تیل کی امریکا کو بڑھتی ہوئی فراہمی امریکا میں روزگار کے تحفظ، مستقبل میں پیٹرول کی قیمتوں اور خود وینزویلا کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔
انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے پاس اب موقع ہے کہ سرمایہ آئے، معیشت کی بحالی ہو اور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی اور شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کو بدلا جا سکتا ہے۔
امریکا کی خلیجی ساحلی پٹی پر واقع ریفائنریز وینزویلا کے بھاری خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکا نے پہلی بار توانائی پابندیاں لگانے سے قبل روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کیا تھا۔
پابندیوں کے باعث پی ڈی وی ایس اے کو پہلے ہی پیداوار کم کرنا پڑی ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، اور اگر جلد برآمدات کا راستہ نہ کھلا تو مزید پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔
منگل کو تیل کے تاجروں نے ان مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیا اور امریکا کی خلیجی منڈی میں بعض بھاری خام تیل کی اقسام کے نرخوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کمی دیکھی گئی، کیونکہ وینزویلا سے اضافی سپلائی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔











لائیو ٹی وی