ایران میں احتجاج کا 12 واں روز، مظاہرے کے دوران پولیس افسر جاں بحق

شائع January 8, 2026
یہ اسلامی جمہوریہ میں2023 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے سخت لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
یہ اسلامی جمہوریہ میں2023 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے سخت لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے 12ویں روز دارالحکومت تہران میں مظاہرے کے دوران چاقو لگنے سے ایک پولیس افسرجاں بحق ہو گیا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’تہران کے مغرب میں واقع ضلع ملارد میں پولیس فورس کے ایک رکن شاہین دہقان مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران چاقو لگنے کے بعد شہید ہو گئے‘۔

مقامی میڈیا کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو اس وقت ہوا جب تہران کے تاجروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ریال کی قدر میں کمی کے خلاف مظاہرہ کیا، جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔

سرکاری بیانات اور مقامی میڈیا پر مبنی اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں تک پھیل چکے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یہ اسلامی جمہوریہ میں 2023-2022 کی ملک گیر ریلیوں کے بعد سے سب سے سنگین احتجاجی تحریک ہے، جو خواتین کے لیے لباس کے ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔

کارٹون

کارٹون : 9 جنوری 2026
کارٹون : 8 جنوری 2026