چین کے ساتھ گوارد بندرگاہ کا معاہدہ
اسلام آباد: پیر کے روز حکومت نے رسمی طور پر گوادر پورٹ کی تعمیر اور آپریشن کا کئی ارب ڈالر کا ٹھیکہ چین کو اس امید پر دیا ہے کہ بندرگاہ پر ہونے والی ترقی پاکستان خصوصاً بلوچستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
معاہدے کے تحت بندرگاہ پاکستان کی ملکیت ہی رہے گی اور سرکاری چینی فرم - چین اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) آپریٹ کرے گی۔ اس سے پہلے یہ معاہدہ پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی (پی ایس اے) کے ساتھ کیا گیا تھا۔
معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب ایوان صدر میں منعقد کی گئی جس میں صدر آصف علی زرداری، چینی سفیر لیو جیان، کچھ وفاقی وزراء، ارکان پارلیمان اور اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی۔
صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ تقریب کا آصل مقصد اس بات کا رسمی طور پر اعلان کرنا تھا کہ پی ایس اے (پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی) سے معاہدے سے ختم کرکے اب یہ معاہدہ سی او پی ایچ سی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی ایس اے نے منصوبے کو چھوڑ دیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ پاکستان چالیس سالہ پورٹ ہینڈلنگ معاہدہ جس پر فروری 2007 کو دستخط کیے گئے تھے اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے ناکام رہا ہے۔
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے گوادر پورٹ کے معاہدے پر حکم امتناعی جاری کیا اور پی ایس اے کو ایک نجی پارٹی کو گوادر پورٹ اتھارٹی کی غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کرنے سے روک دیا تھا اور بلوچستان حکومت کو کیس میں فریق بننے کی اجازت دی تھی۔
دسمبر 2010 میں، چین نے صوبائی حکومت کو پیشکش کی تھی کہ آگر یہ بندرگاہ ان کے حوالے کردی جائے تو وہ مزید بیس برت تعمیر کریں گے اور بندرگاہ کو مکمل طور پر آپریشنل بنا دیں گے۔












لائیو ٹی وی