برطانوی امداد ٹیکس اصلاحات سے مشروط
لندن: برطانوی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ انکے ملک کو پاکستان کی امداد میں اس وقت تک نمایاں اضافہ نہیں کرنا چاہیئے جب تک اسلام آباد اپنے امیر شہریوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کے اقدامات نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ برطانیہ 15- 2014 میں پاکستان کی امداد دگنی کرنے جارہا ہے جس کے بعد یہ برطانوی امداد حاصل کرنا والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔
تاہم برطانوی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے بین الاقوامی ڈیویلپمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا پاکستان میں صحت اور تعلیم کے منصوبوں کو فنڈز فراہم کرنا اس وقت تک ناانصافی پر مبنی پوگا جب تک پاکستان میں نئی آنے والی حکومت کرپشن اور ٹیکس چوری جیسے مسائل کو حل نہیں کرلیتی۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا " ہم اس بات کی امید نہیں رکھتے کہ برطانوی عوام ٹیکسوں کے ذریعے پاکستان میں صحت اور تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں جبکہ پاکستان کی اشرافیہ ٹیکس ادا نہ کریں۔"
رپورٹ میں کہا گیا "پاکستان کے مخیر حضرات ٹیکس ادا نہیں کرتے اور غریب عوام کی صورت حال تبدیل کرنے میں دلچسپی کم ہی لیتے ہیں۔"
پاکستان بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشائی ملک کے صرف 0.57 فیصد شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ 25 سالوں میں کسی شخص کو اس حوالے سے سزا نہیں ہوئی۔
کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کے صرف 30 فیصد ارکان پارلیمنٹ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
تاہم کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد دینے کے معاملے میں دم ہے تاہم یہ امداد اکثر غریب عوام تک نہیں پہنچتی۔
برطانیہ کی بین الاقوامی ڈیویلپمنٹ کی وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پر واضح کردیا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے لیے لمبے دورانیے تک امداد جاری نہیں رکھ سکے گا اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا مستحکم ٹیکس نظام بنائے۔
ترجمان نے کہا " الکیشن ختم ہونے کے ساتھ ہی ہم پاکستان کی نئی آنے والی حکومت کو ٹیکس ریفارمز لانے میں مدد فراہم کریں گے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بھی مدد لی جائے گی کیوں کہ ٹیکس اور اکانومک ریفارمز لازمی ہیں"












لائیو ٹی وی