ملالہ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی روکنے پر عمران خان حیرت زدہ

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2014

ای میل

وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کو روکنے کے فیصلے کے کے حوالے سے  خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کیا جواز تھا۔ —. فائل فوٹو
وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کو روکنے کے فیصلے کے کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کیا جواز تھا۔ —. فائل فوٹو

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے منگل کو کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کو روکنے کے فیصلے کے کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کیا جواز تھا۔

انہوں نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں تحریر کیا کہ ”میں یہ سمجھنے قاصر ہوں کہ آخر پشاور میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی کیوں روکی گئی تھی۔پی ٹی آئی تقریر، مباحثے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ خیالات کی سنسرشپ پر۔“

سوشل میڈیا جو پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے نہایت پسندیدہ رہا ہے، اس کی ویب سائٹس پر اس ٹوئٹ میں کے بعد اس کا موڈ تبدیل ہوگیا۔ اس سے پہلے اس کارروائی پر غصے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کےسربراہ سے اس پر وضاحت طلب کی جارہی تھی۔

اے پی پی:

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شاہ فرمان نے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی کتاب کی تقریب رونمائی نہیں روکی گئی بلکہ مسئلہ موزوں مقام اور سکیورٹی کا تھا۔

ایریا سٹڈی سنٹر پشاور یونیورسٹی میں ملالہ کی کتاب کی رونمائی کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ مذکورہ کتاب کا تعلق نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں سے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایریا سٹڈی سنٹر میں سنٹر ل ایشیاء اور ساوتھ ایشیاء سے متعلق نصاب پڑھایا اور تحقیق کی جاتی ہے ۔

شاہ فرمان نے کہا کہ مذکورہ کتاب ملالہ یوسفزئی کی ذاتی نوشت ہے جس کا تعلق ایریا سٹڈی سنٹر یا کسی بھی تعلیمی ادارے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ کتاب کی رونمائی مطلوبہ فورم پر ہونا چاہیے تھی۔