عامر سہیل کی نوجوانوں کو پیشکش

05 فروری 2014
سب سے بڑا ہدف ابھرتے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ہے، عامر سہیل۔ —اے ایف پی
سب سے بڑا ہدف ابھرتے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ہے، عامر سہیل۔ —اے ایف پی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیف سیلیکٹر اور ڈائریکٹر گیم ڈیولمپنٹ عامر سہیل نے ملک کے باصلاحیت نوجوان کرکٹروں کو آگے آنے اور اپنی قابلیت دکھانے کو کہا ہے۔

منگل کو ڈان کے ساتھ خصوصی گفتگو میں عامر کا کہنا تھا کہ 'ہم ہر اس نوجوان کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سے اے) میں خوش آمدید کہتے ہیں جو خود کو پاکستان کی نمائندگی کا اہل سمجھتا ہے'۔

'بلاشبہ ملک میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن اب ہمیں اس ٹیلنٹ کو ایک راہ پر چلاتے ہوئے مزید بہتر کھلاڑی بنانے ہیں'۔

پاکستان کے سابق کپتان نے اپنے منصوبوں کا خدو خال بتاتے ہوئے زور دیا کہ ان کا سب سے بڑا ہدف ابھرتے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ہے۔

'بطور این سی اے ڈائریکٹر، میرا مقصد جس حد تک ممکن ہو نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینا ہے'۔

انیس سو بانوے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے اوپنر کا مزید کہنا تھا: ہمیں ان کی تکنیک اور کمزوریوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمیں مضبوط ٹیم تیار کرنے میں مدد مل سکے۔

عامر کا کہنا تھا کہ بورڈ میں ان کو دی گئی دونوں ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔

'بنیادی طور پر یہ دو علیحدہ علیحدہ کام نہیں کیونکہ جو کھلاڑی قومی ٹیم سے نکالا جائے گا وہ بالآخر این سی اے آئے گا، جہاں ہم ان کی تکنیک اور غلطیاں سدھار سکیں گے'۔

'تاہم این سے اے میں آنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کا سفر ختم ہو گیا، کیونکہ اگر وہ خود کو بہتر بناتے ہوئے مقامی سطح پر اچھی کارکردگی دکھائے گا تو میں اسے قومی ٹیم میں واپس آنے کا موقع ضرور دوں گا'۔

عامر نے بطور چیف سیلیکٹر اور ڈائریکٹر این سی اے اپنے ماضی کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئےکہا: جن کھلاڑیوں پر ہم نے کام کیا آج وہ قومی ٹیم کا حصہ ہیں۔

سن 2004-2003، بورڈ میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے عامر کا کہنا تھا کہ ان کی ماضی کی پالیسی آج فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔

'ہم نے محمد حفیظ، محمد عرفان، اسد شفیق، راحت علی اور ان جیسے دوسرے کھلاڑیوں بنائے اور یہ سب آج قومی ٹیم میں شامل ہیں'۔

چیف سیلیکٹر کے مطابق اب وہ کھلاڑیوں کا ایک مضبوط ریزرو پول بنانا چاہتے ہیں۔

'اس مرتبہ میری توجہ ایک مضبوط بیک اپ ٹیم بنانا ہے تاکہ قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو متاثر ہوئے بنا ہم انجریز اور آؤٹ آف فارم ہونے کے مسائل سے نمٹ سکیں'۔

عامر کا یہ بھی اصرار تھا کہ نچلی سطح پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مضبوط ریزرو پول کا ہدف یقینی بنایا جا سکے۔

'بطور ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ، میں کلب کرکٹ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ زیادہ تر ٹیلنٹ یہیں سے آتا ہے'۔

'میری پہلی ترجیح ملک بھر میں کلب ٹورنامنٹس کا انعقاد ہو گا'۔

'اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں بے پناہ ٹیلنٹ کے حامل خیبر پختونخوا، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ میں مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے'۔

چیف سیلیکٹر کی حیثیت سے عامر کا اصرار ہے کہ وہ عالمی سطح پر کھلاڑیوں کو مناسب مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

'میری پوری کوشش ہو گی کہ انہیں بہترین مواقع دوں تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیت دکھا سکیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مستقل مزاجی پر یقین رکھتے ہیں اور ٹیم میں جلدی جلدی تبدیلیوں کے خلاف ہیں۔

'اگر کئی بار چانس ملنے کے باوجود کوئی کھلاڑی پرفارم نہیں کرتا تو پھر ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا غلطیاں کر رہا ہے'۔

عامر سہیل کو اس مہینے ایشیا کپ اور مارچ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے سکواڈ ترتیب دینا ہے۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ فارمیٹ کے کپتان مصباح الحق کی حمایت کرتے ہوئے عامر کا کہنا تھا کہ وہ کپتان کی مشاورت سے ٹیم بنائیں گے۔

'مصباح بطور کپتان اچھا پرفارم کر رہے ہیں، اور یقینی طور پر میں ٹیم بنانے سے قبل ان کی سفارشات پر غور کروں گا'۔

'اگر ہم مل کر کام کریں اور ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ دیں تو عالمی کرکٹ میں پاکستان کا درجہ بہتر بنایا جا سکتا ہے'۔

تبصرے (0) بند ہیں