شاہد سجاد -- ایک مایہ ناز مجسمہ ساز

11 اگست 2014

ای میل

دنیا بھر میں کہیں بھی شاہد کا فن اپنی انفرادیت، چابکدستی اور کمال فن کی وجہ سے اپنی مثال آپ سمجھا جائے گا-
دنیا بھر میں کہیں بھی شاہد کا فن اپنی انفرادیت، چابکدستی اور کمال فن کی وجہ سے اپنی مثال آپ سمجھا جائے گا-

اس میں حیرت کا کوئی مقام نہیں کہ ایک ایسے معاشرے میں جو تشدد میں جکڑا ہوا ہے اور جسے حرص نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جیسا کہ آج کا پاکستان ہے وہاں آرٹ کی کوئی قدر نہیں ہے-

فنکاروں کی بھی کوئی قدر نہیں ہے تاوقتیکہ وہ اپنی تشہیر خود نہ کریں- اور شاہد سجاد ان لوگوں کے برعکس ایک ایسی ہی شخصیت تھے جو اپنا ڈھول نہیں پیٹتے- ان میں انکساری اس حد تک تھی کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ گوشہ نشین ہوگئے تھے، وہ چاہتے تھے کہ ان کا کام انکی پہچان بنے-

اور کام بھی کیسا! انھوں نے شوق و ذوق کے ساتھ کانسی میں مجسمے بنائے اور اپنے پیچھے بڑی تعداد میں ایسے شاندار مجسمے چھوڑ گئے کہ انھیں پاکستان کا بہترین مجسمہ ساز تسلیم کرلیا گیا-

یہ سچ ہے کہ انھیں پاکستان میں کسی خاص مقابلے کا سامنا نہیں تھا، کیونکہ مجسمہ سازی نہ صرف محنت طلب فن ہے، بلکہ ہمارے معاشرے میں جو مذہب پرست ہے اسے شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے-

لیکن دنیا بھر میں کہیں بھی شاہد کا فن اپنی انفرادیت، چابکدستی اور کمال فن کی وجہ سے اپنی مثال آپ سمجھا جائے گا- ان سے میری دوستی کا رشتہ تقریباً پچاس سال کا ہے، اور ان کے بارے میں آج لکھ رہا ہوں تو اس لئے کہ جب وہ ہمیں چھوڑگئے تو میں ان سے بہت دور تھا-

میں سمجھتا ہوں کہ عمر کے جس حصے میں میں داخل ہوچکا ہوں، پرانے دوستوں کے بارے میں مجھے جو خبریں ملتی ہیں وہ زیادہ تر ان کی علالت کے بارے میں ہوتی ہیں، اس لئے جب زہرہ یوسف نے مجھے ٹیکسٹ بھیجا کہ صبح شاہد انتقال کر گئے تو مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی-

انھیں حلق کا کینسر ہوگیا تھا اور جب ڈاکٹرں نے ان کا آپریشن کیا تو وہ قوت گویائی سے محروم ہوگئے- ایک ایسے انسان کے لئے جو باتیں کرنے کا شوقین ہو یہ ایک ایسی محرومی تھی جو بیان سے باہر ہے-

میں ان سے ملنے اکثر و بیشتر جایا کرتا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر بیحد تکلیف ہوتی تھی جب وہ اپنے فعال دماغ میں گھومتے ہوئے خیالات کا اظہار نہ کرپاتے اور انتہائی بےچین ہوجایا کرتے تھے- وہ کاغذ پر لکھتےاور اپنے چہرے کے اتار چڑھاو سے انھیں بیان کرتے- لیکن پیچیدہ خیالات کو ظاہر کرنے کے لئے یہ طریقہ انتہائی ناکافی تھا-

چنانچہ جب مجھے انکی موت کی خبر ملی تو مجھے اس کا حد درجہ افسوس تھا، لیکن ساتھ ہی اس بات کی خوشی بھی تھی کہ انھیں اس تکلیف سے نجات مل گئی جسکی وجہ کینسر تھا-

شاہد کی محبت کرنے والی بیوی اور ان کی دکھ سکھ کی ساتھی سلمانہ کا خیال تھا کہ انکے کینسر کی وجہ وہ بخارات تھے جو کانسی کی مجسمہ سازی کے دوران سانس کے ساتھ وہ گھونٹ جاتے تھے-

کانسی کے ساتھ شاہد کے عشق کی تاریخ بہت پرانی ہے- ساٹھ کی دہائی میں چٹاگانگ کے قریب پہاڑی علاقے میں چکمہ قبیلہ کے ساتھ کافی عرصہ گزارنے کے بعد شاہد بڑے بڑے لکڑی کے مجسموں کے ساتھ واپس آئے تھے جو انھوں نے وہاں بنائے تھے-

یہ خوبصورت مجسمے اپنی صبر آزما مظلومیت چھپائے ہوئے ان کے فلیٹ میں اس وقت سے خاموشی سے کھڑے اپنے خالق کے عزم و استقلال کے شاہد ہیں جو نامساعد حالات سے نبرد آزما تھا-

اس کے کچھ عرصے بعد انھوں نے کانسی کا میڈیم اختیار کرنے کا فیصلہ کیا-

ابتداً تو انھیں اپنے تجربات میں سخت ناکامی ہوئی- عموماً کانسی میں کام کرنا بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے، اور اگر ہاتھوں میں مہارت نہ ہو تو یہ سنبھلتا نہیں ہے- اس لئے ماہرین کے قدموں میں بیٹھ کر اسکی ٹکنیک سیکھنے پہلے وہ جاپان اور پھر انگلینڈ گئے- ان کے جاپانی گرو کا اثر زندگی بھر ان کے ساتھ رہا-

مشہور ہے کہ شاہد کی بیچین روح انھیں موٹر سائیکل پر یورپ کے سفر پر لے گئی، جہاں انھوں نے گیلیریاں دیکھیں اور انوکھی انوکھی جگہوں پر اپنے دوست بنائے- ان کا ہاتھ ہمیشہ تنگ رہا لیکن انکی ضروریات بھی محدود تھیں-

مغرب میں کانسی کے میڈیم میں کام کرنے والے فنکار اسپیشلسٹ فاونڈریز میں پلاسٹر کے کاسٹ بنواتے ہیں جہاں ان کے مولڈ بنائے جاتے ہیں اور اس کے بعد انھیں دھات میں ڈھالا جاتا ہے-

فنکاروں (اور ان کے گاہکوں) کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ بتائیں کہ انھیں کس قسم کی زنگاری یا فنش چاہیئے- شاہد کو یہ سہولت کراچی میں حاصل نہیں تھی اس لئے انھیں اسکی سلیں خود اپنی ورک شاپ میں بنانی ہوتی تھی- پگھلی ہوئی دھات سے مولڈ تیار کرنا ایک مشکل کام ہے، ذرا سی غلطی ہوئی اور مولڈ پھٹ جاتا ہے- لیکن شاہد ثابت قدم رہے حتیٰ کہ انھیں اس مشکل ٹکنیک میں مہارت حاصل ہوگئی- اگرچہ قدیم یونان میں اس فن کو برتا جاتا تھا، لیکن آج بھی اس میں کام کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ ہزاروں سال پہلے تھا-

ایک مرتبہ میں نے شاہد سے پوچھا کہ وہ اپنے چند طالبعلموں سے مدد کیوں نہیں لیتے کیونکہ اس سے انھیں بھی اس فن کو سیکھنے میں مدد ملے گی اور خود انھیں اتنی سخت جسمانی محنت نہیں کرنی پڑیگی- جواب میں انھوں نے بتایا کہ کچھ طلباء آئے تھے لیکن جلد ہی چھوڑ گئے کیونکہ وہ اسکی تپش برداشت نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی اتنی محنت-

گاہے گاہے، شاہد لکڑی میں بھی مجسمہ سازی کرتے تھے- چند سال پہلے انھوں نے بڑی بڑی انسانی شبیہیں بنائی تھیں جنھیں دیکھ کر وہ بڑی خوشی محسوس کرتے تھے- انھیں اپنی فنکارانہ زندگی میں جن مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک یہ تھی کہ کراچی کے موہٹہ پیلس کی انتظامیہ نے اس کے گارڈن میں ان کو اپنے شاندار مجسموں کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں دی تھی-

لاہور میں پنجاب کی حکومت نے شاکر علی میوزیم قائم کیا ہے جہاں اس عظیم فنکار کے فن پاروں کی مستقل نمائش کی جاتی ہے- حکومت سندھ کراچی میں ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟ بلاول زرداری بھٹو کو کلچر سے جو لگاؤ ہے اس کے پیش نظر یہ کام ناممکن نہیں ہے-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ