مضحکہ خیز سیاست اور سیاستدان

11 ستمبر 2014

ای میل

آئیں 2007 میں واپس چلتے ہیں۔ اسلام آباد کی لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے پاس موجود لائیبریری پر قبضہ کر لیا، پھر ویڈیو شاپس اور بیوٹی پارلروں پر حملہ کیا، اور کئی پولیس اہلکاروں پر تشدد بھی کیا۔

مشرف حکومت نے کچھ مہینوں تک تحمل سے پوری صورت حال دیکھی، جبکہ لال مسجد کے طلباء مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی کی قیادت میں مسلح جنگجوؤں کی مدد سے اپنی مہم میں تیزی لاتے رہے۔ دونوں مولانا بھائیوں نے یہاں تک کہا، کہ طالبان سے لڑتے ہوئے شہید ہوجانے والے پاک فوج کے سپاہیوں کی مسلم طرز پر آخری رسومات ادا نا کی جائیں۔

آخر کار، کئی مہینوں تک خاموش رہنے کے بعد حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے مسجد کلیئر کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس سب کے دوران کئی شدت پسند جنگجو، مدرسے کے طلباء، اور کچھ فوجی ہلاک ہوئے۔ میڈیا نے انتہائی جذباتی طریقے سے حکومت پر قتل عام کا الزام لگایا۔

کیا یہ سب کچھ سنا سنا لگ رہا ہے؟ آج ہمارے پاس ایک بار پھر ایسی صورت حال ہے، جس میں دو مقرر اپنے اپنے حامیوں کو ریاست کے خلاف بغاوت کرنے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے ہجوم کو بھڑکایا، جس نے بعد میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، سرکاری ٹی وی کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، آلات چوری کیے، اور پارلیمنٹ کی حدود میں بھی داخل ہوئے۔

لیکن اس پورے مرحلے کے دوران حکومت نے لاپرواہی کی حد تک ضبط کیا ہے۔ حقیقت ہے، کہ عمران خان اور طاہر القادری چاہتے ہیں کہ لوگ مارے جائیں، تاکہ نواز شریف پر مزید پریشر بنایا جائے، لیکن اٹھنے والی اشتعال انگیز آوازوں پر توجہ نا دے کر حکومت نے اپنی کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔

آزاد سے آزاد ترین جمہوری ملکوں میں بھی ہجوم کو ریاست کے اداروں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جمع ہونے کی آزادی ایک بنیادی جمہوری حق ہے، لیکن اس کی وجہ سے عدلیہ اور انتظامیہ کے کام میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ لیکن اسلام آباد کی سڑکوں پر روزانہ یہی ہو رہا تھا۔


اس پورے مرحلے کے دوران حکومت نے لاپرواہی کی حد تک ضبط کیا ہے۔

حال ہی میں پوری دنیا کے میڈیا میں ایک تصویر سامنے آئی، جس نے اس سب کا خلاصہ کر دیا۔ اسلام آباد میں ڈنڈوں سے لیس چار غنڈے ایک باوردی پولیس اہلکار پر تشدد کر رہے ہیں، اور بیچارہ اہلکار زمین پر پڑا ہوا اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تصویر سے نا صرف پاکستانی ریاست کی کمزوری ثابت ہوتی ہے، بلکہ عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے سسٹم کو لاحق خطرے کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد خبر آئی، کہ ایک سینئر پولیس افسر کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے حامیوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے، جس سے وہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اور اس پورے احتجاج کی ایک خاص بات جیو مخالف مہم ہے، جس کے نتیجے میں اس کے سٹاف اور آفس پر حملہ کیا گیا۔

دنیا کے لیے اس طرح کے واقعات ہضم کرنا مشکل ہے۔ بیرون ممالک کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہے، کہ آخر حکومت اس پاگل پن کو کیوں نہیں روک رہی ہے۔ وزیر اعظم کا سسٹم کو غیر مستحکم کرنے والوں، اور خود وزیر اعظم کے خلاف تحریک چلانے والوں کے بارے میں یہ لاپرواہ رویہ سمجھ سے باہر ہے۔

لیکن اس سب تشدد کے باوجود، پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں اپنی جماعت کو ان تمام واقعات سے بری الذمہ قرار دے دیا۔ لیکن وہ اور ان کے پارٹی سربراہ عمران خان بالکل طاہر القادری کی طرح ہی اپنے حامیوں کو بھڑکاتے رہے ہیں۔ اب ان کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول نا کرنا بے ایمانی اور منافقت ہے۔


بیرون ممالک کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہے، کہ آخر حکومت اس پاگل پن کو کیوں نہیں روک رہی ہے۔

بہرحال، اگر جوائنٹ سیشن نے کچھ نا بھی کیا، تب بھی اتنا ضرور واضح کر دیا کہ سیاسی طور پر عمران خان کس قدر تنہا ہیں۔ طاہر القادری کی پارلیمنٹ میں کوئی نشستیں نہیں ہیں، لیکن پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی تیسری بڑی جماعت ہے، اور سسٹم میں شراکت داری رکھتی ہے۔ عمران خان نے اپنی جماعت کے ممبران قومی اسمبلی کو استعفیٰ دینے کا حکم دیا، لیکن خیبر پختونخواہ اسمبلی سے ہاتھ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں، جہاں ان کی اکثریت ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے دوسری پارٹیوں کی جانب سے حمایت نا ملنے، اور مظاہرین کی بتدریج گھٹتی ہوئی تعداد سے پریشان ہو کر مظاہرین سے وابستہ اپنی تمام امیدیں فوج سے وابستہ کر لیں، لیکن شاید وہ بھی ان کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر حیران ہو گئے ہوں گے۔

نواز شریف اس وقت ایک بہت مشکل پوزیشن میں ہیں۔ پریشر کے دوران انہوں نے انتہائی بے توجہی کی اپنی پالیسی برقرار رکھی۔ وہ اب مکمل طور پر آرمی کی ڈائیریکٹ مداخلت کرنے پر ہچکچاہٹ، اور اسلام آباد کے ان جوکروں سے عوام کی بڑھتی بیزاری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

لیکن اس طرح غیر مؤثر نظر آکر انہوں نے اپنے آپ کو خود کمزور کر لیا ہے، بالکل ویسے ہی، جیسے لال مسجد واقعے کے بعد مشرف ہو گئے تھے۔ تب بھی یہی ہوا تھا، کہ مولوی بھائیوں کی جانب سے طوفان اٹھایا جارہا تھا، لیکن حکومت نے خاموش رہ کر اپنی کمزوری کا پیغام دیا۔

لیکن اس پورے افسوسناک مرحلے کی وجہ سے فوج کی نظر میں سیاستدانوں کا امیج جوکروں والا بن گیا ہے۔ جب سیاستدان بار بار طاقت کے حصول کے لیے لڑتے ہیں، تو فوج اور منتخب کرنے والی عوام کے نزدیک یہ مضحکہ خیز بن جاتے ہیں۔ معمولی سے سروے سے بھی یہ بات پتا لگ سکتی ہے، کہ ہمارے سیاستدانوں کی ہمارے عوام میں کچھ خاص عزت نہیں ہے۔

عمران خان اپنی بین الاقوامی شہرت پر فخر کرتے ہیں، لیکن اپنے حالیہ رویے سے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک مطلق العنان شخصیت ہیں جس کو جمہوریت کی کوئی فکر نہیں ہے۔


انگلش میں پڑھیں۔

[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 6 ستمبر 2014 کو شائع ہوا۔