دوسروں سے زیادہ برابر

11 اکتوبر 2014

ای میل

میڈیا کی ساری دلچسپی صرف پی ٹی آئی میں ہے، کیونکہ یہ عوام میں مقبول ہے۔ اس کے برعکس بایاں بازو گمنامی کا شکار ہے۔
میڈیا کی ساری دلچسپی صرف پی ٹی آئی میں ہے، کیونکہ یہ عوام میں مقبول ہے۔ اس کے برعکس بایاں بازو گمنامی کا شکار ہے۔

جارج اورویل کی کلاسک تحریر اینیمل فارم میں جانوروں کے گروہ کا قیام کے وقت نعرہ ہوتا ہے، کہ "تمام جانور برابر ہیں"، لیکن ناول کے اختتام تک یہ نعرہ کچھ اس طرح ہوجاتا ہے، "تمام جانور برابر ہیں، لیکن کچھ جانور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برابر ہیں"۔ مختصراً کہا جائے تو برابری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ طاقت کا بھوکا وہ طبقہ ہے، جو اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے کھوکھلے نعروں کو جنم اور بڑھاوا دیتا ہے۔

جارج اورویل کے ایک اور ناول 1984 میں بھی ایسے ہی برے حالات کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں ایک انتہائی بااختیار بیوروکریسی عوام کی تنقیدی صلاحیتوں کو دبانے کے لیے Newspeak نامی طاقتور میڈیا اور خیالات پر قابو پا لینے والی زبان کا استعمال کرتی ہے۔

دونوں ناولوں کو شائع ہوئے 7 دہائیاں ہوچکی ہیں۔ اب ماڈرن معاشرے جاسوسی کی ٹیکنولاجی اور کارپوریٹ میڈیا کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوچکے ہیں۔ جارج اورویل اپنی تحریروں کے ذریعے سرمایہ دارانہ جدیدیت کے سیاہ پہلوؤں کی ترقی کا نقشہ فراہم کرنا چاہتے تھے یا نہیں، اس بات سے قطع نظر، انہوں نے حقیقت میں ایسا ہی کیا ہے۔

پچھلے دنوں عمران خان نے لاہور میں اتنا بڑا جلسہ کیا، جو وہ اکتوبر 2012 میں منٹو پارک میں اپنے جلسے کے بعد سے کہیں بھی نہیں کر سکے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں پی ٹی آئی کو طاقت کے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کرنے میں کارپوریٹ میڈیا کا اہم کردار رہا ہے، اور عمران خان کے ساتھ اس کی محبت کا اندازہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کی بلا تعطل لائیو کوریج دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔

اسی اسکرپٹ کے تحت پی ٹی آئی کے لاہور میں جلسے کو بے مثال کوریج دی گئی، اور عمران خان کے شریف برادران کو تازہ دم چیلنج کے بارے میں کافی پرجوش آراء جاری کی گئیں۔

لیکن اتوار کے دن کا اہم سیاسی واقعہ صرف پی ٹی آئی کا جلسہ نہیں تھا۔ طویل عرصے سے بدنامی کا نشانہ بننے والے پاکستانی بائیں بازو نے اسلام آباد میں اس سے کافی چھوٹا، لیکن متاثر کن مظاہرہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر صرف سرکاری ٹی وی نے بائیں بازو کے اس مظاہرے کو کوریج دی، جبکہ خود کو جمہوریت کے علمبردار کہنے والے پرائیویٹ ٹی وی چینلوں نے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بائیں بازو کے اس اجتماع کو کور کرنے سے زیادہ پرکشش شاید کہیں دور لاہور میں عمران خان کا جلسہ تھا۔

اب دائیں بازو کی جماعتیں وہ زبان استعمال کرنے لگی ہیں، جو کبھی صرف اور صرف بائیں بازو کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ اس سے شاید کسی نے یہ سوچا ہوگا، کہ شاید کبھی کوئی صحافی سوال کرے کہ آخر دایاں بازو عوام کو فائدہ پہنچانے والے انقلاب کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے، اور یہ کہ بائیں بازو کو اس دور میں کیوں سنجیدگی سے لیا جائے، اور اس کے موقف کو کیوں اہمیت دی جائے۔

لیکن صحافت اب وہ نہیں رہی جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔ پچھلے سالوں کا ایک تنقیدی سوچ رکھنے والا صحافی اب ایک ایسے صحافی سے تبدیل ہوگیا ہے، جس کا مفاد صرف اور صرف میڈیا کارپوریشن کے مفاد سے وابستہ ہے۔

2007 سے لے کر اب تک ماہرین پرائیویٹ میڈیا کے جمہوری اثرات پر بحث کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں میڈیا کارپوریشنز بار بار اپنا وہی منتر دہرائے جاتی ہیں کہ کچھ جانور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برابر ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری ٹی وی ریٹنگز کا باعث بنتے ہیں، اور نتیجتاً زیادہ اشتہار ملتے ہیں۔ دوسری جانب بائیں بازو میں کسی کی کوئی دلچسپی نہیں۔ بایاں بازو عوام میں "بِکتا نہیں ہے"۔

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ پاکستانی میڈیا کو پچھلی کئی دہائیوں میں بائیں بازو کی اب تک کی سب سے اہم میٹنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن اس بات پر حیرانی ضرور ہے کہ اپنے باسز کے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی صحافی نے وہاں موجود ہونا بھی پسند نہیں کیا۔

ماضی، بالخصوص ایوب اور ضیاء کی ڈکٹیٹرشپ میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد، جو خود بھی ترقی پسند نظریات رکھتی تھی، ناپسندیدہ اور اختلاف پر مبنی موقف شائع کرنے، اور بائیں بازو کے خیالات کو عوام تک پہنچانے کے لیے بہت مشکلات سے گزرتے تھے۔ لیکن اس طرح کے صحافی اب اگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوچکے، تو گنے چنے ہی رہ گئے ہیں۔

اس کے علاوہ میڈیا کے اپنے حلقوں میں بھی کارپوریٹ میڈیا کے بلڈوزر کے خلاف کوئی جدوجہد موجود نہیں ہے۔ سیاسی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کارپوریشنز کے گٹھ جوڑ نے ہی امریکہ کی سیاسی اقتصادیات کی بنیاد رکھی، جو اب اس ملک بھی رائج ہوتی جارہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا کہ پاس اب اتنی قوت ہے کہ وہ دن کو رات اور رات کو دن بنا کر پیش کر سکتا ہے۔ اس لیے لوگ اس بات پر بھی یقین کرنے لگے ہیں کہ کرپشن نوے دنوں میں ختم ہوسکتی ہے یا شارع دستور پر کنٹینر میں بیٹھے مولانا انقلاب لاسکتے ہیں۔ یہ Newspeak کی بہترین مثال ہے۔

کہانی کو ایک بہتر اختتام تک پہنچانے کی امید اب صرف بائیں بازو کے ان لوگوں سے وابستہ کی جاسکتی ہے، جو ان سب حالات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا سوسائیٹی میں بڑے پیمانے پر Newspeak کے خلاف رائے قائم ہوسکتی ہے یا نہیں؟ یا ہم ہمیشہ یہی مانتے رہیں گے کہ کچھ جانور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برابر ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 3 اکتوبر 2014 کو شائع ہوا۔