مووی ریویو: نامعلوم افراد

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2014

ای میل

حال ہی میں ریلیز ہونے والی مووی 'نامعلوم افراد' کراچی میں ایک حیرت انگیز اور ایڈوینچر سے بھرپور سفر ہے۔

ڈائریکٹر نبیل قریشی واضح طور پر کراچی کے رہنے والے ہیں، جو تین ایسے دوستوں کی کہانی لائے ہیں، جو کہ فوری پیسہ بنانے کے چکر میں سرگرداں ہیں۔ پر ایسا بھی نہیں کہ یہ مووی کراچی سے باہر رہنے والوں کو پسند نہیں آئے گی۔ لطیفوں اور شہر کے مناظر سے بھرپور اس فلم میں کراچی شہر کی اینرجیٹک اور خطرات سے بھرپور زندگی کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

بھلے ہی اس مووی میں غربت کی جھلک کے ساتھ ساتھ تشدد اور جلاؤ گھیراؤ دکھایا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مووی ڈپریس کرنے والی نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ ایک فرحت بخش کامیڈی ہے، جو کہ کئی موڑ لیتی ہوئی ایک خوشگوار اختتام تک پہنچتی ہے۔

ایک ایسا ملک، جس میں غربت، لوڈ شیڈنگ، اور سیاسی عدم استحکام کا دور دورہ ہو، وہاں کئی لوگ نامعلوم افراد بننا چاہیں گے، اور یہی مووی کے تین مرکزی کرداروں ی کہانی ہے۔

فہد مصطفیٰ نے فرحان، ایک انشورنس ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے، جسے فوری طور پر پیسے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی محبت نینا (عروہ حسین) سے شادی کرسکے۔

فہد مصطفیٰ اور عروہ حسین مووی کے ایک منظر میں
فہد مصطفیٰ اور عروہ حسین مووی کے ایک منظر میں

مون (محسن عباس حیدر) ایک شادیوں کے بینڈ والا ہے، جس کا کراچی میں بمشکل گزارا ہوتا ہے، اور اب دبئی جانے کے خواب اس کی زندگی کو امنگ فراہم کرتے ہیں۔

دونوں ایک کمرہ شیئر کرتے ہیں جو انہیں شکیل بھائی (جاوید شیخ) نے کرائے پر دیا ہے۔ شکیل بھائی ایک پریشان حال سرکاری افسر ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے دہانے پر ہیں، اور اپنی چھوٹی بہن نینا کی شادی کرنے کے لیے پیسے کی کمی کا شکار ہیں۔

اور اس طرح یہ تینوں افراد شہر کے نامعلوم افراد گروپ کا حصہ بن جاتے ہیں، جو ہر بے چینی کے وقت پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جاوید شیخ، فہد مصطفیٰ، اور محسن عباس کا نامعلوم افراد میں ایک انداز
جاوید شیخ، فہد مصطفیٰ، اور محسن عباس کا نامعلوم افراد میں ایک انداز

اس کے بعد ایک ہنگامہ خیز پلاٹ شروع ہوتا ہے، جو غنڈوں، بندوقوں، اور مستی سے بھرپور ہے۔ کسی کسی جگہ کافی پرلطف مناظر بھی ہیں، جب بسوں اور کاروں کو آگ لگائی جاتی ہے، اور مجرم بڑے آرام سے جلتے ٹائروں سے سگریٹ سلگاتا نظر آتا ہے۔

دوسری جانب شہر میں جرائم کی وارداتوں کے بارے میں نیوز پروگرام کا ٹائٹل "چوری کے پیچھے کیا ہے" ہے، اور جب کبریٰ خان آنسوؤں کے ساتھ موبائل فون چھیننے والوں کی حمایت کرتی ہیں، تو مون کہتا ہے کہ کبریٰ کو مارننگ شو کا میزبان ہونا چاہیے۔

نینا سے شادی کا امیدوار ایک داڑھی والا شخص اسے ایک بغیر الکحل والا عطر تحفے میں دیتا ہے۔ نینا کے خوابوں میں جینز پہننا اور امریکہ جانا شامل ہے، جبکہ ولن گوگی (سلمان شاہد) کے ساتھ کنفیوز قسم کے گینگسڑز کا ایک غول موجود رہتا ہے۔

مووی میں چالاکی سے بھائی لوگوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے جملے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ پوری اسکرپٹ کو سنبھالے رکھنا ایک مشکل کام تھا، جسے انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا گیا ہے۔

جاوید شیخ، فہد مصطفیٰ، اور محسن عباس کا نامعلوم افراد میں ایک انداز
جاوید شیخ، فہد مصطفیٰ، اور محسن عباس کا نامعلوم افراد میں ایک انداز

سینٹر اسٹیج پر ہمیں جاوید شیخ انتہائی شریف شکیل بھائی کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ محسن نے مون کے روپ میں ایک مضبوط اور توانائی سے بھرپور پرفارمنس دی ہے، جبکہ اوور ایکٹنگ کے خطرے سے دوچار فہد مصطفیٰ اپنی پرفارمنس سنبھالتے نظر آتے ہیں۔

ایک مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے ساہوکار کے کردار کے لیے سلمان شاہد کافی موزوں رہے ہیں، جبکہ بِلی (مہوش حیات) اسکرپٹ میں کچھ حد تک غیر ضروری ہیں، لیکن ان کے آئٹم سانگ نے ضرور لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

مہوش حیات آئٹم سانگ بلی میں
مہوش حیات آئٹم سانگ بلی میں

ساؤنڈ ٹریک اسٹوری میں کافی اچھے طریقے سے فٹ ہوتا ہے۔ غیر سنجیدہ اور غیر روایتی گانوں جیسے D.O.G، گولی ٹی ٹی میں پھنس گئی، رومینٹک گانے دربار، اور آئٹم سانگ بلی نے اس مووی کو اور بھی مزیدار بنا دیا ہے۔

لیکن یہ مووی تھوڑی چھوٹی ہوسکتی تھی۔ دوسرا ہاف تھوڑا لمبا تو ہوجاتا ہے لیکن بورنگ بالکل بھی نہیں ہوتا۔ کچھ مقامات پر یہ صاف ظاہر ہے کہ بولی وڈ مووی ہیرا پھیری سے انسپریشن لی گئی ہے۔ دونوں موویز تین لوگوں کے گرد گھومتی ہیں جو جلد پیسہ بنانے کے چکر میں ہیں۔

اس کے علاوہ فرحان اور نینا کا مزار پر جا کر دعا مانگنے والا سین بھی خالصتاً بولی وڈ کا سین ہے۔ لیکن جیسے جیسے پلاٹ آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے مماثلتیں ختم ہوتی جاتی ہیں۔

کچھ معمولی سی خامیاں بھی ہیں۔ جیسے کہ گھر میں موجود خواتین کو مردوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں علم کیوں نہیں؟ لیکن ان سے اتنا فرق نہیں پڑتا کیونکہ نامعلوم افراد کوئی سنجیدہ مووی ہے بھی نہیں، اس لیے ایسی چھوٹی موٹی خامیوں کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

فہد مصطفیٰ اور عروہ حسین مووی کے ایک منظر میں
فہد مصطفیٰ اور عروہ حسین مووی کے ایک منظر میں

یہ انتہائی ہوشیاری سے بنائی گئی ایک ایسی تفریحی مووی ہے، جس کو دیکھنے کے بعد آپ ایسی مزید موویز دیکھنا چاہیں گے۔ اس مووی کو دیکھنے کے بعد ہم درست طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ دہشتگردی جیسے آسان موضوع سے ہٹ کر، درست اسکرپٹ، اوریجنیلٹی، اچھی سنیماٹوگرافی، اور اب تک ڈراموں تک محدود اچھے اداکاروں کے امتزاج سے پاکستانی سنیما کس قدر اچھی موویز بنا سکتا ہے۔

لوکل سنیما اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کے سفر کی جانب اچھی طرح گامزن ہے۔

مجموعی اسکور: ⅘

انگلش میں پڑھیں۔