افغان فورسز کے آپریشن میں عمر خراسانی 'زخمی'

اپ ڈیٹ 08 فروری 2015

ای میل

عمر خالد خراسانی ۔ ۔ ۔ فائل فوٹو: رائٹرز
عمر خالد خراسانی ۔ ۔ ۔ فائل فوٹو: رائٹرز

پشاور: افغانستان میں اتحادی فوج اور افغان نیشنل آرمی کی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پاکستانی سرحد سے متصل افغان علاقے میں افغان نیشنل آرمی اور اتحادی افواج نے مشترکہ کارروائی میں طالبان کو نشانہ بنایا۔

تحریک طالبان کے سابق ترجمان اور عمر خالد خراسانی کے انتہائی قریبی ساتھی احسان اللہ احسان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ عمر خالد خراسانی دو ہفتے قبل ننگرہار میں افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آج ایک جھڑپ میں زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کی جانب سے اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کالعدم تنظیم کے امیر عمر خالد خراسانی زخمی ہوئے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں آپریشن کے باعث طالبان کی بڑی تعداد افغانستان فرار ہو گئی تھی جس میں عمر خالد خراسانی بھی شامل تھے۔

گذشتہ سال عمرخالد خراسانی کو طالبان شوریٰ سے اختلافات کے باعث نکال دیا گیا تھا جب کہ اس کے گروپ نے ایف سی اہلکاروں کے قتل کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔۔

بم دھماکے میں 3 امن رضا کار ہلاک

خیبر ایجنسی میں بم دھماکے میں 3 امن رضا کار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

وادی تیراہ کے علاقے نرے بابا میں ہونے والے دھماکے میں امن رضا کار نشانہ بنے۔

مقامی افراد اور ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق توحید اسلام نامی عسکریت پسند امن رضا کاروں کی تنظیم کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔