شام میں روسی کارروائی،امریکا کو تشویش

03 اکتوبر 2015

ای میل

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام میں روسی فضائی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام میں روسی فضائی کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

بیروت: روس کی جانب سے تیسرے روز بھی شام کے ان علاقوں میں فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا جو کہ صدر بشار السد کی مخالف جماعتوں کے قبضے میں ہیں تاہم ان علاقوں میں داعش کا وجود نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی، جو کہ خود بھی شام میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں کررہے ہیں، نے روس کو داعش کے علاوہ کسی دوسرے گروپ پر فضائی کارروائی سے رک جانے کی تجویز دی ہے۔

امریکا کے ترکی، یورپی ممالک اور عرب ممالک کے اتحاد نے کہا ہے کہ ’ہم روس کو داعش کے علاوہ شام کی اپوزیشن اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کی شام میں فوجی قوت کے اضافے اور خاص طور پر روس کی جانب سے شام کے علاقے حاما، حمص اور ادلب میں کی جانے والی فضائی کارروائی میں متعدد شہریوں کی ہلاکت پر انھیں تشویش ہے، جس میں داعش کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ شام میں روس کے حمایت یافتہ صدر بشار السد کے خلاف کئی عسکری گروپ مسلح کارروائیاں کررہے ہیں۔

واشنگٹن، اس کے مغربی اور مقامی اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ روس ان فضائی کارروائیوں میں بشار السد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان میں بیشتر گروپس کو امریکا اور دیگر دشمنوں سے لڑنے کے لئے ٹرینگ اور اسلحہ خود بشار السد نے فراہم کیا تھا۔

شام کے صوبہ حمص کے ایک مقامی شخص کا کہنا تھا کہ روسی جنگی طیاروں کی متوقع فضائی حملے میں مساجد کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر رواں ہفتے مساجد میں تمام نمازوں کے اجتماعات معطل کردیئے گئے۔

ماسکو نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز شام کے علاقوں میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں داعش کے 12 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم جو علاقے روسی فضائی کارروائی کا نشانہ بنائے گئے ہیں وہ شام کے مغربی اور شمالی علاقے ہیں جبکہ داعش شام کے مشرقی علاقوں میں موجود ہے۔