تصدیق پر تصدیق پھر بھی جعلسازی

اپ ڈیٹ 28 جنوری 2016

ای میل

2006 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چوتھے مقامی پی ایچ ڈی وظائف کے لیے میں نے کوالیفائی کیا اور ارادہ کیا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انوائرنمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی کر لی جائے۔

کسی دوست کے توسط سے ایک سپروائزر سے بات کی تو انہوں بھی اپنی سرپرستی میں لینے کا عندیہ دے دیا۔ ایک پروجیکٹ کے بارے میں سوچ بھی لیا گیا اور بالآخر داخلے کے کاغذات جمع کروا دیے گئے۔ ابتدائی انٹرویو کے لیے بھی بلایا گیا جہاں میں گیا بھی۔

اس کے بعد میرے داخلے پر ایک اعتراض لگا دیا گیا کہ میری ڈگری ایم فل کے برابر بھی ہے کہ نہیں؟ اپنی ڈگری ایم فل کے برابر ہونے کا ایک سرٹیفکیٹ جو کہ ہماری یونیورسٹی جامعہ زرعیہ فیصل آباد عطا کرتی تھی، پہلے ہی فائل میں لگا چکا تھا، اس لیے مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایسا اعتراض کیونکر لگا دیا گیا؟

پی ایچ ڈی کمیٹی کے سربراہ کسی شعبے کے انچارج تھے۔ ان سے ملا اور اپنی ڈگری کی برابری کو ثابت کرنے والا سرٹیفکیٹ پیش کیا جس پر جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی طرف سے تصدیق اور حوالہ جات موجود تھے، مگر انہوں نے اس سند کو ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں ایچ ای سی سے ایک اور سرٹیفکیٹ بنوا کر لاؤں جو میرے نام سے جاری ہو گا کہ فلاں ابن فلاں کی ڈگری ایم فل کے برابر ہے۔

میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی کہ میرے پاس موجود سرٹیفکیٹ پر واضح طور پر یہ لکھا ہوا ہے، تو پھر اس کی ضرورت کیوں ہے؟ انہوں نے بڑی بدتمیزی سے میرے نقطہ اعتراض کو رد کیا اور حکم من و عن بجا لانے کا کہا۔

پڑھیے: بلاک شناختی کارڈ کا سر درد

ایک قومی یونیورسٹی کا دوسری قومی یونیورسٹی کی ڈگری کے بارے میں ایسا سوال چہ معنی؟ وہ دستاویز اگر اتنی ہی اہم ہے، تو جامعات اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں اتنا بھی رابطہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں کہ فلاں یونیورسٹی کی 18 سالہ تعلیم کو ایم فل کے برابر مانا جائے یا نہیں؟ اور ایک سرکاری دستاویز کے ہوتے ہوئے دوسری دستاویز کی ضرورت کیونکر ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

اور آجکل بھی ایسے ہی ایک کام میں پھنسا ہوا ہوں، پاکستان میں نئی کمپنیاں رجسٹر کرنے والے ادارے سے کمپنی کا نام بک کروانا درپیش ہے۔ سنا تھا کہ بڑا ہی فعال ادارہ ہے اور کافی کام آن لائن ہی ہو جاتا ہے۔ آن لائن ان کا اکاونٹ بنایا گیا۔ ویب سائٹ پر لاگ ان کرنے کی کوشش کی تو لاگ ان کرنے والا بٹن ہی کام نہیں کر رہا تھا۔

اس ویب پر لاگ ان کرنے کے لیے آپ صرف انٹرنیٹ ایکسپلورر سے ہی داخل ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں جب آپ ایکسپلورر کمپیٹیبلٹی موڈ میں کھولیں گے۔ گو کہ میرا انٹرنیٹ کا استعمال کافی زیادہ ہے، مگر پھر بھی مجھے اس کمپیٹیبلٹی موڈ کے چکر کی سمجھ نہیں آئی۔ آج کے دور میں جب اتنے نت نئے براؤزر موجود ہیں وہاں انٹرنیٹ ایکسپلورر کے استعمال پر اصرار صرف اس لیے کہ ویب سائٹ نئے زمانے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

خیر آن لائن فارم بھرا گیا اور طے کیا کہ آن لائن فیس بھی جمع کروادی جائے جو کہ 208 روپے تھی۔ فیس جمع کروانے کی باری آئی تو میرے کریڈٹ کارڈ پر کچھ ویری فکیشن کے مسائل ہو رہے تھے اس لیے سوچا کیوں نہ آف لائن فیس جمع کروا دوں۔ اگلے دن پرنٹ لینے کے لیے ایک کمپیوٹر کی دکان پر گیا تو انہوں نے کہا آج جمعہ ہے اور انٹرنیٹ والا لڑکا چلا گیا کل تشریف لائیے گا۔

اگلے روز وہاں گیا اور پرنٹ لیا۔ بینک میں پیسے جمع کروانے کا ارادہ کر رہا تھا تو پتہ چلا کہ یہ فارم کسی خاص بینک میں ہی جمع ہو سکتا ہے، اور اس خاص بینک کا پتہ بھی ویب سائٹ سے ہی ملے گا۔ اس لیے اس ادارے کو فون کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ کیونکہ اب آپ سے غلطی سرزد ہو چکی ہے، لہٰذا آپ کو آف لائن پیسے جمع کروانے کے لیے پرانے پراسس کو ویب سے ختم کرنا پڑے گا، جس کے لیے آپ ای میل کریں، جس کا جواب آنے میں ایک دن لگے گا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایک سادہ سا مرحلہ کہ آن لائن سسٹم میں ایک استعمال کنندہ اتنی سی تبدیلی بھی خود نہ کر سکے کہ وہ فیس آف لائن جمع کروائے یا آن لائن؟ اس پراسس کو نئے سرے سے شروع کرنے کے خوف سے ایک دوست کو تکلیف دی کہ اپنا کریڈٹ کارڈ ادھار دے، ان کے کارڈ کو سسٹم نے قبول نہ کیا۔ بڑے بھائی کو فون کیا تو ان کے کارڈ کو سسٹم نے قبول کر لیا اور ویب پر آنے لگا کہ آپ کی ٹرانزکشن پر عمل ہو رہا ہے۔ ایک گھنٹہ دس منٹ تک وہی سائن نظر آتا رہا۔

مجبوراً ادارے کو ای میل لکھ ڈالی کہ مجھے کوئی پیغام نہیں آیا کہ پراسس مکمل ہوا کہ نہیں۔ اگر پراسس مکمل نہیں ہوا تو میرے پرانے پراسس کو ختم کر دیں۔ آج صبح ان کی ای میل آئی کہ بتائیں پراسس ختم کر دیں یا آپ کے آن لائن پیسے جمع ہو گئے ہیں؟

میں نے یہی سوال واپس کیا کہ کیا آپ کے سسٹم نہیں آ رہا کہ میرے پیسے جمع ہو گئے یا نہیں؟ جواب میں انہوں نے کہا ادارے کے نمبر پر فون کروں، فون کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں اپنے بنک سے پوچھوں کہ پیسے چلے گئے یا نہیں، جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ دوبارہ پھر بڑے بھائی سے درخواست کی وہ کوشش کریں۔ اور جب انہوں نے کوشش کی تو ویب پر سائن ان کرنے کا مسئلہ پھر سے پیدا ہوا، خیر انہوں نے آئی ٹی کے کسی دوست کی مدد سے ویب پر لاگ ان کیا اور تازہ ترین اطلاع کے مطابق اب پیسے جمع ہو چکے ہیں۔

پڑھیے: پاکستان میں پاسپورٹ کی تجدید کا تلخ تجربہ

لوگ جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ باہر ڈنمارک اور پاکستان میں کیا فرق ہے تو ان واقعات کے حوالے سے میں ڈینش سسٹم کی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

ڈنمارک میں کمپنی رجسٹر کرنے کے لیے آپ کو ایک سینٹرل سسٹم کے ذریعے لاگ ان کر کے ٹیکس کی ویب سائٹ پر جانا ہوتا ہے۔ وہاں آپ متعلقہ نام اور کمپنی کا دائرہ کار بتا کر کمپنی رجسٹریشن کے لیے ڈال دیتے ہیں اور ایک سینٹرل سسٹم کے ذریعے آپ کی معلومات سبھی متعلقہ اداروں تک پہنچ جاتی ہیں، اور کچھ 20 سے 25 منٹ میں آپ کی ٹیکس کے ادارے سے منظور شدہ کمپنی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔

اگر کچھ دیگر معلومات درکار ہوں تو متعلقہ ادارے آپ سے خود رابطہ کرتے رہتے ہیں ناکہ آپ اپنے کاغذات اٹھائے اداروں اور نک چڑھے افسران کے نخرے اٹھاتے رہیں۔

پاکستان میں دستاویزات کی تصدیق کا نظام بہت بوسیدہ ہے، ایک سرٹیفکیٹ تصدیق در تصدیق کے نظام سے گزر کر بھی غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ اور اگر غلط ہو ہی سکتا ہے تو ایسی تصدیق کا فائدہ؟ کیا جعلسازی ثابت ہونے پر تصدیق کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے؟ کیا کوئی کارروائی عدالتوں کے باہر 50 روپے لے کر نوٹری پبلک کے اسٹامپ لگانے والوں کے خلاف بھی ہوگی جو ایک نوٹ دیکھ کر دستاویز کے درست ہونے کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں؟ ایک اسٹامپ پیپر لینے کے لیے شناختی کارڈ کی کاپی سے لے کر ذات برادری اور حتیٰ کہ فنگر پرنٹس بھی لیے جاتے ہیں، مگر پھر بھی جعل سازی ہے کہ رکنے ہی نہیں پاتی؟

پاکستان میں بے شمار کمپنیاں دفتری معامالات کو کنٹرول کرنے والے سوفٹ ویئر بنا کر دنیا میں بیچ رہی ہیں مگر خود پاکستان کے اندر یہ نظام رائج نہیں۔

اگر اتنے مراحل طے ہونے کے بعد ایک دستاویز بن جاتی ہے تو اس کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کے بعد اگر آپ کے پاس اصل دستاویز ہے تو اس کی نقل کو تصدیق کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟

اور اگر بینک میں فوٹو کاپی دینا لازمی قرار دے دی گئی ہے تو بینک پر لازم کیوں نہیں کہ خود فوٹو کاپی کر لیں؟ نجی بینک تو کسٹمر بنانے کے چکر میں آپ کی ہر دستاویز کی کاپی خود کرنے کو تیار رہتے ہیں، مگر سرکاری اداروں کا بس چلے تو اپنے کام کے کاغذات کی فوٹو کاپیاں بھی عوام سے کروا لانے کو کہہ ڈالیں۔

ہمیں ہمارے دفتری امور کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اور نئے زمانے کے مطابق تصدیق کے سسٹم کو ترقی دینی ہوگی، ویب سائٹس کو آسان اور عام فہم کرنا ہو گا، اور سب سے بڑھ کر دستخط در دستخط کے نظام سے جان چھڑوانی ہوگی، لوگوں میں ذمہ داریاں تقسیم کرنا ہوگی، اور ان ذمہ داریوں کے حساب کا رواج ڈالنا ہوگا۔ کیا اکیسویں صدی میں ہم لوگ اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اٹھارہویں صدی کے دفتری طریقہ کار کو خیر باد کہہ دیں؟