عامر لیاقت کا ایک مرتبہ پھر متحدہ چھوڑنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 23 اگست 2016

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایک مرتبہ پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت کچھ برس قبل ایم کیو ایم علیحدہ ہونے کے بعد حال ہی میں دوبارہ پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

عامر لیاقت دن بھر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ساتھ موجود رہے تاہم رات میں اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایک مرتبہ پھر متحدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے لندن اور پاکستان کی رابطہ کمیٹی اب بھی ایم کیو ایم کے فیصلے کر رہی ہیں جب کہ الطاف حسین اب بھی ایم کیو ایم کے قائد ہیں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے تھے تاہم میں نے دیکھا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا اور اس موقع پارٹی رہنماؤں کے درمیان عجیب سی باتیں ہورہی تھیں۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے، فاروق ستار

انھوں نے ہاتھ چوڑتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار، ندیم نصرت، الطاف حسین سمیت جو چاہے پارٹی کے معاملات کو دیکھے اور اب میرا میرا تعلق نہیں ہے، 'میں ایم کیو ایم کو چھوڑ رہا ہوں، اب خدا حافظ'۔

اس موقع پر عامر لیاقت نے نہ صرف ایم کیو ایم بلکہ سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

الطاف حسین کی جانب سے ملک مخالف بیان پر عامر لیاقت نے کہا کہ وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے اور قائد کے بیان سے لاتعلقی اظہار اگر کنفیوژن پیدا کررہا ہے تو وہ اسی وقت متحدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔

تاہم پروگرام کے آغاز میں عامر لیاقت نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں رابطہ کمیٹیوں نے پارٹی کے تمام معاملات فاروق ستار کے حوالے کیے تھے اور وہ ہی اس وقت پارٹی کے تمام امور دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان مخالف تقریر: الطاف حسین نے معافی مانگ لی

ایم کیو ایم کو نئے بحران کا سامنا گزشتہ روز اس وقت کرنا پڑا جب پریس کلب کے باہر جاری بھوک ہڑتالی کیمپ میں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے ملک مخالف تقاریر کیں تھی اور کارکنوں کو تین ٹی وی چینلز پر حملے کیلئے اشتعال دلایا تھا۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے صدر میں قائم نجی ٹی وی کے دفتر پر دھاوا بولا اور اس میں توڑ پھوٹ کی، اس دوران ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی قیادت کو حراست میں لے لیا، جس میں ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر عامر لیاقت، خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر شامل تھے، تاہم بعد ازاں انھیں سیکیورٹی فورسز نے رہا کردیا۔

رینجرز نے گزشتہ رات ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سمیت کئی دفاتر کو بھی سیل کیا۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں