سرحد پر کشیدگی مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ

اپ ڈیٹ 27 نومبر 2016

اسلام آباد: پاکستان ادارہ برائےشماریات (پی بی ایس) طویل عرصے سے التواء کا شکار چھٹی مردم و خانہ شماری کے انعقاد کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی ٹائم فریم تیار نہیں کرسکا۔

اس حوالے سے پی بی ایس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔

قومی مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے مارچ 2016 میں مردم شماری کو ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد سے اس طرز کے کئی اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔

تاہم بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی اہلکاروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کا معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہوجائے گا۔

آخری بار مردم شماری کا انعقاد 17 برس قبل ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی حکم کے باوجود حکومت مارچ میں مردم شماری کیلئے بضد

پی بی ایس کے ایک سینئر عہدے دار نے بتایا کہ ہم مردم شماری کرانا چاہتے ہیں تاہم سی سی آئی کے مارچ 2016 میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مردم شماری کا انعقاد فوج کے تعاون سے کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بیورو نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اب فیصلہ سی سی آئی کو کرنا ہے اور بیورو کو آگے بڑھنے کے لیے روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سی سی آئی کا آئندہ اجلاس کب ہوگا تو انہوں نے کہا کہ اجلاس طلب کرنے کا اختیار انہیں حاصل نہیں۔

مردم شماری کے عمل میں فوج کو شامل کرنے کے فیصلے کے بعد پی بی ایس نے اندازہ لگایا کہ گھر گھر جانے کے لیے انہیں تقریباً ایک لاکھ 67 ہزار فوجی اہلکاروں کی ضرورت ہوگی۔

مزید پڑھیں: ملک میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ

اس کے علاوہ بیورو نے تخمینہ لگایا کہ مردم شماری کے آپریشن کی نگرانی کے لیے انہیں اضافی 20 سے 30 ہزار فوجی افسران درکار ہوں گے۔

پی بی ایس کے عہدے ار نے بتایا کہ آرمی نے اندازہ لگایا ہے کہ مردم شماری کے پورے عمل کے لیے 3 لاکھ اہلکاروں کی ضرورت ہوگی تاہم لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر مسلح افواج کا اتنا بڑا حصہ مردم شماری کے لیے علیحدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

مردم شماری کے مستقبل کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اب یہ فیصلہ سی سی آئی کو کرنا ہے کہ یہ عمل فوج کے ساتھ مکمل کرنا ہے یا ان کے بغیر۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مردم شماری کے عمل میں فوج کی شمولیت سے اس کے نتائج زیادہ قابل قبول اور شفاف ہوں گے۔

اجلاس کے بعد جاری سرکاری اعلامیہ کے مطابق پی بی ایس کے چیف ماہر شماریات آصف باجوہ نے تیاریوں کا عمومی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ سویلین سائیڈ پر تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں جن میں فنڈز کا اجراء، نقل و حمل کے انتظامات، ہارڈویئر کی خریداری اور فیلڈ افسران کی تقرری شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مردم شماری میں تاخیر پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ان تیاریوں کا اطمینان کا اظہار کیا اور ادارہ شماریات کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے میں فوج کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ مردم شماری کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی بار مردم شماری 1951 میں ہوئی تھی جس کے بعد 1961 اور 1972 میں بھی اس کا انعقاد کیا گیا تھا۔

چوتھی مردم شماری 1981 اور پانچویں 1991 کے بجائے 1998 میں فوج کے تعاون سے کی گئی تھی۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم، پارلیمنٹ میں نمائندگی، انتخابی عمل، ٹیکس محصولات اور دیگر شہری معاملات کے لیے مردم شماری انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

آئین کے تحت حکومت ہر 10 سال بعد ملک میں مردم شماری منعقد کرنے کی پابند ہے۔

یہ خبر 27 نومبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


تبصرے (0) بند ہیں