پاکستان اسٹیل ملز کو 45 سال کیلئے لیز پر دینے کی تیاری

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2017

ای میل

اسلام آباد: پاکستان اسٹیل ملز کے واجبات میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز کو 45 سال کے لیے نجی کمپنی کو لیز پر دیئے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

ریونیو کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹیل ملز کو لیز پر جاری کرنے کی صورت میں تقریباً 5 ہزار ملازمین کو بھی نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیر 16 جنوری کو ٹرانسیکشن کمیٹی نے اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا، جس پر نجکاری کمیشن کا بورڈ منگل (17 جنوری) کو لیز کی میعاد کا تعین کرے گا۔

ذرائع کے مطابق اسٹیل ملز کی نجکاری کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا بلایا جانے والا اجلاس لین دین کے معاملے پر منظوری دے گا۔

وزارتِ صنعت کے سیکریٹری کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسٹیل ملز کی موجودہ صورتحال کی وجہ بدعنوانی، گنجائش سے زیادہ ملازمین کی بھرتی، عدم استعداد اور ادارے کی بحالی میں حکومتی عدم دلچسپی ہے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کو 21 ارب 60 کروڑ روپے میں سعودی کنسورشیئم کو فروخت کرنے کی کوشش کو جون 2006 میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے روک دیا تھا، جس کے بعد اسٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ تقریباً 8 سال کے لیے تعطل کا شکار رہا۔

2008 کے اختتام پر اسٹیل مل کا خسارہ اور واجبات 26 ارب روپے تھا جو اب 415 ارب روپے تک جاپہنچا ہے اور اس میں 166 ارب روپے ادارے کو واجبات کی مد میں ادا کرنے ہیں۔

حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں سے 85 ارب روپے مختلف بیل آؤٹ پیکجز کے لیے بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

گذشتہ روز ہونے والی مشاورت سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت اسٹیل مل کے 166 ارب روپے واجبات کا ذمہ اٹھائے گی اور ادارے کے 4 ہزار 835 ملازمین کو رضاکارانہ طور پر علیحدہ ہونے کی اسکیم کی پیش کش کرے گی جبکہ بقیہ ملازمین کو اسٹیل مل کے نئے ذمہ داران کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مئی 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان اسٹیل ملز کے کل واجبات اور خسارہ دوگنا ہوچکا ہے اور جون 2015 سے ادارے کو ’ہاٹ موڈ زیرو پروڈکشن‘ میں ڈالنے کے بعد سے متبادل درآمدات پر 5 ارب ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔

ظفر سبحانی کی سربراہی میں ہونے والے ٹرانسیکشن کمیٹی کے اجلاس میں شریک افسر اور نجی شعبے کے ماہر نے ڈان کو بتایا کہ اس مرحلے پر کمپنی کو فروخت کرنا مشکل ہوگا، کمیٹی کی جانب سے طے کیے گئے اصولوں میں کسی نجی کمپنی کے ساتھ لیز کے معاہدے یا رعایت کے معاہدے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لیز یا رعایت کے لیے 3 آپشنز پر غور کیا گیا ہے جس میں پیش کردہ سب سے زیادہ دورانیہ 45 سال ہے۔

لیز کے دورانیے میں حکومت کے ساتھ ریونیو تقسیم کرنے کی بنیاد پر نیلامی کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ حکومت اپنے 33 ارب روپے کے قرضوں اور گارنٹی کو اکیوٹی اور اشو کے منافع بخش کوپن میں تبدیل کردے گی۔

لیز کے معاہدے کے تحت نئی کمنپی کو پہلے سال میں پلانٹ کی استعداد کے 25 فیصد کام کو دوبارہ شروع کرنا ہوگا، لیز کے دوسرے سال 50 فیصد اور اس کے بعد پیداوار کو 85 تک لے جانا ہوگا۔

اگر نجی کمپنی دو سال میں 50 فیصد اور تین سے پانچ سال میں 85 فیصد گنجائش کا کام نہیں کرپاتی تو حکومت کے پاس اس بات کا اختیار موجود رہے گا کہ وہ سرمایہ کار کی بینک گارنٹی کو اِن کیش کرسکیں.

دوسری جانب پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر حکومت کا اختیار برقرار رہے گا اور اسٹیل ملز کی مشینری بھی نئی کمپنی کو 45 سال کے لیے دی جائے گی۔

سرمایہ کار کو نئی کمپنی کو پاکستان میں رجسٹر کرنا ہوگا اور اپنے پلانٹ کو موجودہ مقام پر آپریٹ کرنا ہوگا، سرمایہ کار کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ موجودہ اثاثہ جات کو نیلام کرکے منافع حاصل کرسکے تاہم اسے آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے نئی مشینری لانے کی اجازت حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ملازمین کو اسٹیل مل کی تنخواہوں پر ہی برقرار رکھا جائے گا، ایک اندازے کے مطابق موجودہ اسٹاف کی تعداد 19 ہزار 700 کے قریب ہے جس میں سے حکومت 4 ہزار 835 ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے ذریعے کمپنی سے نکالنے کا امکان رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ ہفتے قبل وزارت صنعت و پیداوار نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے کی وجہ سے مل کے ملازمین شدید مشکلات کا دوچار ہیں، 2 سال سے زائد عرصے سے ملازمین کی تنخواہیں وفاقی بجٹ سے دی جارہی ہیں اور اب بھی اکتوبر 2016 سے ان کی تنخواہیں دینا باقی ہیں جبکہ گذشتہ 3 سال سے پاکستان اسٹیل مل کا آڈٹ بھی نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان اسٹیل مل کی جانب سے 157 ایکڑ رقبہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو 30 سالہ لیز پر دیا جاچکا ہے۔