لاڑکانہ: کشتی ڈوبنے سے ایک شخص ہلاک، 12 لاپتہ

فروری 11 2017

ای میل

سندھ کے شمالی ضلعے لاڑکانہ میں کشتی ڈوبنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ 12 افراد لاپتہ ہوگئے۔

مقامی افراد کے مطابق کشتی میں کم سے کم 35 افراد سوار تھے، جبکہ کشتی میں سوار ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کشتی لاڑکانہ شہر سے 35 کلو میٹر دور کچے کے علاقے میں دریائے سندھ کے کنارے پر موجود درگاہ محبل شاہ کے میلے میں جا رہی تھی، کشتی میں زائرین کی بڑی تعداد سوار تھی، جو کہ منزل پر پہنچنے سے تھوڑے ہی قبل الٹ گئی۔

عینی شایدین کے مطابق دریا کے کنارے کے قریب ہونے پر مسافروں میں سے زیادہ تر کشتی میں ایک طرف آگئے، جس کی وجہ سے اس کا توازن بگڑ گیا، بہت کوشش کے باوجود کشتی الٹنے سے نہ بچایا جا سکا۔

کشتی میں سوار تمام افراد کا تعلق نوشہروفیروز سے تھا، جو کچے کے علاقے میں موجود درگاہ کے سالانہ میلے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کرکے فوری پر 17 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جب کہ کچھ افراد اپنی مدد آپ کے تحت پانی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر ( ڈی سی ) لاڑکانہ کاشف علی ٹیپو اور دیگر عہدیدار جائے وقوع پر پہنچے، مگر اندھیرا ہوجانے کے باعث امدادی کام کو روک دیا گیا تھا۔

دوسرے دن امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے سکھر سے نیوی کے 17 رضاکار بلوائے گئے، جنہوں نے ایک شخص کی لاش نکالی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی نوشہروفیروز سے کشتی میں سوار افراد کے اہل خانہ جائے وقوع پر پہنچے، جنہوں نے کم سے کم 12 افراد کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا، جب کہ انتظامیہ اور ریسکیو اہلکاروں نے بھی افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔

ریسکیو اہلکاروں اور انتظامیہ کے مطابق کشتی میں سوار افراد کی حتمی تعداد کا پتہ نہیں، اس وجہ سے یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ کتنے افراد لاپتہ ہیں، تاہم نوشہروفیروز سے پہنچنے والے خاندانوں کے افراد کا دعویٰ کسی حد تک صحیح لگ رہا ہے۔

جائے وقوع پر پہنچنے والے خاندانوں کے مطابق لاپتہ ہونے والے افراد میں حامد شاہ، گلزار علی، سونو، سجاد، خالد ہیسبانی، امجد، جمال، گلشیر چنہ، احمد علی، عبدالمجید اور شاہنواز چنہ سمیت ایک اور شخص شامل ہے۔

خیال رہے کہ لاڑکانہ اور نوشہروفیروز سمیت سندھ کے اکثر اضلاع میں موجود کچے کے علاقوں میں لوگ کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، کچے کے علاقے دریائی علاقے کہلاتے ہیں،جو دریا کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے روڈوں کی تعمیر سمیت دیگر ٹرانسپورٹ اور جدید سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔

ان علاقوں کے زیادہ تر افراد دریا کے راستے کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، جس وجہ سے کشتیوں کے حادثے پیش آتے رہتے ہیں۔

سندھ سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی کچے کے علاقوں کے لوگ ایسے ہی سفر کرتے ہیں، جہاں ایسے حادثات ہونا معمول کی بات ہے، ایسا ہی ایک حادثہ رواں ماہ 3 فروری کو پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں پیش آیا، جہاں دریائے راوی میں کشتی ڈوب گئی تھی۔

ڈوب جانے والی کشتی میں 70 سے زائد افراد سوار تھے، حادثے کے بعد کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن جاری رہا، جب کہ تمام افراد کو بچالیا گیا تھا۔