پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مضبوط شراکت کا خواہاں: وزیراعظم

اپ ڈیٹ 17 اپريل 2017

ای میل

— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے اور مضبوط شراکت کا خواہاں ہے تاکہ خطے اور اس سے باہر امن اور سلامتی کو فروغ دیا جاسکے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں پاک-امریکا دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور پاک-بھارت کشیدگی سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی مشیر قومی سلامتی کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات نئی امریکی انتظامیہ کے تحت پاکستان اور امریکا کے درمیان پہلا باقاعدہ اعلیٰ سطح کا رابطہ ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نواز شریف نے امریکی مشیر قومی سلامتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نئی امریکی حکومت کے اقدامات اور کوششوں کو سراہا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری سامنے آئی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جاری ترقیاتی کاموں کو بین الاقوامی برادری تسلیم کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک امریکا تعلقات چیلنجز سے بھرپور

وزیراعظم نے میک ماسٹر کو ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر معاملات پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا واحد ذریعہ بامعنی مذاکرات ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت کا بھی خیرمقدم کیا۔

امریکی صدر کی نیک خواہشات وزیراعظم تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ امریکی مشیر قومی سلامتی نے نواز شریف کو یقین دہانی کرائی کہ نئی امریکی انتظامیہ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ افغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن اور استحکام یقینی بنایا جاسکے۔

ایچ آر میک ماسٹر کے وفد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل، قائم مقام خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان لورل ملر، قومی سلامتی کونسل کی سینئر ڈائریکٹر لیزا کرٹس، قومی سلامتی کونسل کے پاکستان کے لیے مقرر ڈائریکٹر جان جے وائس بھی شامل تھے۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت مشیر برائے قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔

’پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ‘

بعد ازاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔

— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

دفتر خارجہ میں پاکستان اور امریکا کے دوران وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، پاکستانی وفد کی قیادت سرتاج عزیز نے کی جبکہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کئی دہائیوں سے دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔

سرتاج عزیز نے امریکی وفد کو سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پالییسیوں کے باعث ملک میں امن قائم ہوا ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ اس ناسور کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پاک ۔ افغان سرحد پر موثر بارڈر میکنزم چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'ٹرمپ کو پاک-امریکا تعلقات میں بہتری کی امید'

ایچ آر میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے اور مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستانی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

بعد ازاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایچ آر میک ماسٹر اور جنرل قمر باجوہ کے درمیان ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، دفاعی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئے۔

واضح رہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر اس سے قبل افغانستان کا بھی دورہ کرچکے ہیں، جبکہ ان کا بھارت کا دورہ بھی شیڈول ہے۔

امریکا کی جانب سے افغانستان میں سب سے بڑا غیر جوہری بم گرائے جانے کے بعد قومی سلامتی کے مشیر کے خطے کے مختلف ممالک کے دوروں کو اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔