شریف خاندان کی تحقیقات کرنے والےجے آئی ٹی ارکان کون ہیں؟

اپ ڈیٹ مئ 06 2017

ای میل

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے پیش کردہ ناموں کو سپریم کورٹ نے منظور کرکے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کو حتمی شکل دے دی جو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کرے گی۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن واجد ضیاء جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے، واجد ضیاء 21 گریڈ کے آفیسر ہیں جن کا تعلق پولیس سروس سے ہے۔ وہ دو مرتبہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور موٹروے پولیس میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ واجد ضیاء ایف آئی اے کے اکنامک کرائم ونگ میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، اگرچہ ان کا پولیس جیسے ادارے میں تجربہ محدود ہے لیکن وہ حج اسکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم میں بھی شامل تھے۔

ان کے علاوہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسر عرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے عامر عزیز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

عامر عزیز بھی 21 گریڈ کے سرکاری افسر ہیں جن کا تعلق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے ہے۔ عامر عزیز نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (این آئی بی ایف) کے مینجنگ ڈائریکٹر مقرر ہونے کے بعد گذشتہ 7 برسوں سے بینکنگ کے مرکزی دھارے سے باہر ہیں۔

این آئی بی ایف، بینکنگ اور فنانس کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک تربیتی ادارہ ہے، یہ ادارہ ملکی اور غیر ملکی افراد کی ضروریات کو پوری کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بینکاری کے اصول، اس کے عملی مظاہرے اور اس سے ملحقہ موضوعات کے مطالعے کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ عامر عزیز سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار میں قومی احتساب بیورو (نیب) کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔

بلال رسول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات ہیں جو اس وقت ایس ای سی پی سیکرٹریٹ کے میڈیا کارپوریٹ کمیونیکیشن اور ٹرانسلیشن ڈپارٹمینٹ میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے خصوصی بینچ تشکیل

بلال رسول نے 1993 میں کارپوریٹ لاء اتھارٹی میں شمولیت اختیار کی جہاں انہوں نے اپیلیٹ بینچ کے رجسٹرار اور سیکریٹری کمیشن کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں۔ بلال رسول نے اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی جبکہ اردو کے علاوہ وہ انگریزی، پنجابی اور عربی زبان بھی روانی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔

بلال رسول نے انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ انشورنس سے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی اور ایس ای سی پی میں قائم ہونے والے پہلے اینٹی منی سیل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

جے آئی ٹیم میں شامل ہونے والے ایک اور افسر عرفان نعیم منگی ہیں، جن کا تعلق قومی احتساب بیورو (نیب) سے ہے۔ عرفان منگی 20 گریڈ کے سرکاری افسر ہیں جو اس وقت کوئٹہ میں ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کوئٹہ میں تعینات ہونے سے تقریباً 2 ہفتے پہلے وہ ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخواہ اور قائم مقام ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

تاہم عرفان نعیم منگی کو وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات میں مہارت حاصل ہے اور حال ہی میں 21 گریڈ میں ترقی کے لیے عرفان منگی نے نیشنل مینیجمنٹ کورس مکمل کیا ہے۔

لیکن اب تک جے آئی ٹی کے جن ارکان کے بارے میں عوام کو معلومات کم ہیں، ان میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمد نعمان سعید آئی ایس آئی کے کسی ایک اندرونی سیکیورٹی ونگ کے ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے 3 سال تک آئی ایس آئی میں اپنی خدمات انجام دیں اور 2016 میں فوج سے ریٹائر ہوئے، محمد نعمان سعید نے 71 لانگ کورس پاس کرنے کے بعد پاکستان آرمی کے آرمرڈ کور میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعمان سعید اور ایم آئی کے بریگیڈیئر کامران خورشید تحقیقات کرنے کے حوالے سے فوجی حلقوں میں خاصے مقبول ہیں، یہ دونوں حضرات بھی حال ہی میں بننے والی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔