وزیراعظم 15 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے

اپ ڈیٹ 11 جون 2017

ای میل

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیراعظم کو طلب کرلیا ہے اور وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی کا سمن بھی موصول ہوگیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو گزشتہ روز جے آئی ٹی کی جانب سے سمن موصول ہوا تھا جس کے بعد پارٹی رہنماؤں اور قانونی مشیروں سے مشاورت کی گئی جہاں سمن کی تعمیل کرتے ہوئے پیش ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم سمن کے مطابق جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز پانچ مرتبہ جے آئی ٹی کےسامنے پیش ہوچکے ہیں جبکہ چھوٹے صاحبزادے حسن نواز دومرتبہ پیش ہوئے، اس کے علاوہ نیشنل بینک کے سربراہ سمیت دیگر بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

پاناما پییر کیس اور جے آئی ٹی کی تشکیل

یاد رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:پاناما کیس: سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

اس کے بعد 6 مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو (نیب) کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔

وزیراعظم کے صاحبزادوں کی پیشی

جے آئی ٹی نے اثاثوں کی تفتیش کے لیے سب سے پہلے وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز کو طلب کیا تھا جس کے بعد ان کی پانچ بار جے آئی ٹی کے سامنے طلبی ہوئی۔

حسین نواز دو روز قبل پانچویں مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سوالات سے نہیں لگتا کہ جے آئی ٹی انھیں دوبارہ بلائے گی، تاہم جے آئی ٹی جب بھی بلائے گی میں آؤں گا۔

مزید پڑھیں:پاناما سے متعلق جے آئی ٹی میں حسین نواز کی پانچویں پیشی

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے مجھے نہیں جے آئی ٹی والوں کو مطمئن ہونا ہے، جے آئی ٹی کو کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملے گا، اگر کوئی ثبوت ملے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

دوسری جانب حسن نواز بھی دو مرتبہ پیش ہوئے اور جے آئی ٹی نے ان سے آخری مرتبہ تقریباً 5 گھنٹے طویل تفتیش کی تھی۔

جے آئی ٹی ارکان پر اعتراض کا معاملہ

یاد رہے کہ حسین نواز نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کی گئی ایک ای میل کے ذریعے جے آئی ٹی کے کچھ افسران کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے تھے جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ تحقیقات پر مبینہ طور پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

تاہم بعد ازاں جے آئی ٹی کے دو ارکان کے خلاف اعتراض سے متعلق حسین نواز کی درخواست سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے مسترد کردی تھی۔

حسین نواز کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے کہا تھا کہ نہ جے آئی ٹی کے کسی رکن کو تبدیل کریں گے نہ ہی کسی کو کام سے روکیں گے، کسی کے خلاف خدشات قابل جواز ہونا ضروری ہیں، ہم نے ہی جے آئی ٹی کے ان ممبران کو منتخب کیا تھا، اگر کسی پر مجرمانہ بدنیتی کا شبہ ہے تو اسے سامنے لائیں اسی صورت میں اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بعدازاں حسین نواز کی تفتیش کے دوران ایک تصویر جاری ہوئی جس پر انھوں نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ سے شکایت کی۔

یہ بھی پڑھیں:فوٹو لیک: تحقیقات کیلئے حسین نواز کا سپریم کورٹ سے رجوع

خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں حسین نواز نے کہا کہ تصویر لیک کر کے آئندہ طلب کیے جانے والوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں حسین نواز نے موقف اختیار کیا کہ تصویر کا لیک ہونا اور ویڈیو ریکارڈنگ ضابطہ اخلاق اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

نیشنل بینک کے صدر بھی جے آئی ٹی سے نالاں

دوسری جانب جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر پاناما پییرز کیس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات میں بننے والی جے آئی ٹی کے ارکان کے رویے کی شکایت کی۔

سعید احمد کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن کے مطابق جے آئی ٹی ارکان نے انھیں 5 گھنٹے تک انتظار کروایا جبکہ کچھ ارکان کا رویہ دھمکی آمیز اور تحمکانہ تھا۔

مزید پڑھیں:نیشنل بینک کے صدر بھی پاناما جے آئی ٹی ارکان کے رویے سے نالاں

سعید احمد نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا کہ 'میں نے جے آئی ٹی کو اطلاع دی تھی کہ میں (کچھ وجوہات کی بنا پر) مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہوسکتا، لہذا میں اگلی مرتبہ پیش ہوگیا لیکن جے آئی ٹی ارکان نے معاملے کی سماعت کرنے والے معزز جج صاحبان کے سامنے یہ تاثر دیا کہ جیسے میں جان بوجھ کر اس معاملے کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتا ہوں'۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'ملاقات کا وقت صبح 11 بجے طے تھا، میں مقررہ وقت پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی پہنچ گیا، لیکن 3 سیشنز پر مشتمل انٹرویو کے سلسلے میں پہلے انٹرویو کے لیے مجھے تقریباً 5 گھنٹے تک انتظار کروایا گیا'۔