کراچی: گذشتہ 3 سال سے لاپتہ شارق کمال کی اہلیہ نوشین کمال کا کہنا ہے کہ ’میرے 3 بچے ہر وقت اپنے والد کو ساتھ لے جانے والے افراد سے بدلہ لینے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں‘، نوشین کمال کو اپنے خاوند کو اٹھانے کی درست تاریخ بھی اب تک یاد ہے، جنہیں 3 مارچ 2015 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔

3 بچوں کی ماں کا کہنا تھا کہ ’وہ انتہائی خوش بچے تھے جو مجھ سے اپنے اسکول میں ہونے والے واقعات کو بیان کیا کرتے تھے لیکن اب وہ اس بارے میں سوچتے ہیں کہ ان کو اسکول کی تعلیم سے کن وجوہات کی بنا پر دور کیا گیا‘۔

ایک اور خاتون شائستہ، جن کے خاوند کو 28 اکتوبر 2015 کو غائب کیا گیا تھا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں، کا کہنا تھا کہ ’میری 3 بیٹیاں اسکول جانے کی عمر کو پہنچ چکی ہیں اور ان کے والد کی گمشدگی کے بعد ان کی ضروریات پوری کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے‘۔

اسی طرح ریاض اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند کو 18 نومبر 2015 کو غائب کیا گیا تھا، ’جب انھیں غائب کیا گیا تو ہمارے ہاں دوسرے بچے کی ولادت ہونے کو تھی، میرے بیٹے نے اب تک اپنے والد کو نہیں دیکھا‘۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ان کا 7 سال کا بڑا بیٹا بھی کھڑا تھا جس نے اپنے والد کی فوٹو کا فریم اٹھا رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: لاپتہ افراد کی کہانی کا دوسرا رخ

ان کے علاوہ ایک اور لاپتہ فرد کی اہلیہ صغیرنسہ بیگم اپنی کہانی بتاتے ہوئے آب دیدہ ہوگئیں، ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا فرقان شادی شدہ نہیں تھا اور میں اسے بہت زیادہ یاد کرتی ہوں، ان کا کہنا تھا کہ 6 مئی 2015 کو ان کے بیٹے کو غائب کیا گیا جس کے بعد سے وہ اب تک لاپتہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس کی بازیابی کے لیے سب کچھ کرکے دیکھ لیا، جس میں عدالت میں پٹیشن دائر کرنا بھی شامل ہے تاہم اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا‘۔

یہ متاثرین منگل 12 ستمبر کو ہونے والے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کے اجلاس میں شریک تھے جس کا مقصد میڈیا کے ساتھ جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق سندھ کی صورت حال شیئر کرنا تھا۔

اس موقع پر این سی ایچ آر کے چیئرمین ریٹائر جسٹس علی نواز چوہان نے کہا کہ ’جبری گمشدگی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ہم نگران آرگنائزیشن کے طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ گمشدگیوں میں ملوث ہونے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کرسکیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے جب ہم نے وزارت داخلہ کو نوٹس بھیجا تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ لاپتہ افراد ان کے پاس نہیں ہیں تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں فرنٹئیر کور شاید ان کے بارے میں جانتی ہو، اور ساتھ ہی ان کی نشاندہی کے لیے کچھ وقت طلب کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کو ایک ہفتے میں بازیاب کروایا جائے: عدالتی حکم

این سی ایچ آر کے چیف کا کہنا تھا کہ ’مکمل انکار نہ آنا ایک مثبت چیز تھی جس نے ہم سب میں اچانک ایک امُید پیدا کردی تھی، لیکن اب ہمیں یہ دوسرا مراسلہ بھجوایا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھی لاپتہ افراد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں‘۔

جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا تھا کہ ’اس کے رد عمل میں ہم نے کہا ہے کہ آپ کا جواب مبہم اور اس لیے یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے‘۔

اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے این سی ایچ آر سندھ کے رکن انیس ہارون نے بتایا کہ ان کے پاس حکومت پر یقین رکھنے کے حوالے سے انتہائی مشکل مرحلہ ہے جیسا کہ وہ ایک دن کچھ کہتے ہیں اور دوسرے دن کچھ کہتے ہیں۔

جسٹس چوہان نے کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک داخلی نظام ہونا چاہیے، ’ہم وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے داخلی نظام اور اس حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کے لیے کہیں گے‘۔


یہ رپورٹ 13 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی