سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سنانے والے 5 رکنی بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ بینچ کے تمام جج صاحبان نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر متفق تھے۔

بدھ 13 ستمبر کو سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے والے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستوں سماعت ہوئی۔

اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ رواں برس 20 اپریل کو پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے اور 28 جولائی کے حتمی فیصلے کا مندرجات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان فیصلوں کا نتیجہ ایک ہی ہے، یعنی نواز شریف کی نااہلی۔

خیال رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل وہی پانچ رکنی بینچ پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے جس نے 28 جولائی کو نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا تھا۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احمد عدالت میں پیش ہوئے اور عدالتی کارروائی کے دوران اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 20 اپریل کے عبوری فیصلے میں جن جج صاحبان نے اختلافی نوٹ لکھے تھے، وہ 28 جولائی کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر دستخط نہیں کر سکتے تھے۔

مزید پڑھیں: پاناما کیس کا فیصلہ جاری کرنے والے ججز کون ہیں؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خواجہ حارث کو بتایا کہ پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے پر تمام جج صاحبان نے دستخط کیے ہیں، تاہم پانچ رکنی بینچ میں صرف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل دینے پر اختلاف تھا۔

انہوں نے کہا کہ 20 اپریل کے عبوری فیصلے میں کسی بھی جج نے یہ نہیں کہا کہ وہ دو جج صاحبان کے فیصلے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا کہ جن جج صاحبان نے 20 اپریل کو نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا انہوں نے 28 جولائی کے فیصلے میں کسی بھی طرح کا اضافہ نہیں کیا، تاہم ان جج صاحبان نے حتمی فیصلے پر دستخط کیے اور اس طرح کی مثالیں ملک کی عدالتی تاریخ میں ملتی ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا تاہم انہیں شو کاز نوٹس دے کر وضاحت اور فیئر ٹرائل کاموقع ملنا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما جے آئی ٹی کو کوئی اور کنٹرول کر رہا تھا،سعد رفیق کا الزام

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاناما فیصلہ دینے والے جج کو ہی اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نگران جج مقرر کردیا گیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے ہوتے ہوئے دوبارہ مقدمات سپریم کورٹ میں آنے ہیں لہٰذا نگران جج کا تقرر بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاناما فیصلے پر سپریم کورٹ بیک وقت تفتیش کار، شکایت کنندہ اور ٹرائل کورٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سماعت کے دوران کہا کہ 20 اپریل کے پاناما فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس فیصلے کو تسلیم کیا گیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ 20 اپریل کا فیصلہ اقلیتی تھا جبکہ نواز شریف نے 20 اپریل کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کیا۔

پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی سماعت کو کل (14 ستمبر بروز جمعرات) تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز اور وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاناما پیپرز فیصلے پر نظر ثانی درخواست کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ کو تحلیل کرکے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔