صاحبو، کچھ لوگ فقط فرد نہیں ہوتے، پورا عہد ہوتے ہیں۔ چلتی پھرتی اساطیر ہوتے ہیں۔ انتظار حسین بھی ایسے ہی تھے۔ عمر بھی طویل پائی، لکھا بھی جم کر اور جو لکھا، اُس کے معتقد بھی ملے اور مخالف بھی۔

اُنہوں نے اگر پوری ایک نسل کو گرویدہ بنایا، تو اِس کا اصل سبب یہ تھا کہ اُنہوں نے اپنے سامنے اُس نسل کو جوان اور پھر بوڑھا ہوتے دیکھا تھا۔ اُن کے دُکھ درد کو سمجھا اور قریب سے جانا تھا۔ پھر اُن کا اپنا دُکھ بھی مکمل کہانی تھا، یادِ ماضی، ناسٹلجیا، اُن چیزوں کا غم، جنہیں وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ یہ موضوع اُن کے فکشن، بالخصوص ناولوں میں غالب رہا۔ نوبیل انعام یافتہ گیبرئیل گارسیا مارکیز کی بات درست ہے کہ

’ادیب درحقیقت اپنی زندگی میں ایک ہی کتاب لکھتا ہے۔‘

جیسے خود مارکیز نے تنہائی کی کتاب لکھی اور انتظار صاحب نے یادِ ماضی کی۔ انتظار صاحب فقط معروف نہیں، متنازع بھی تھے۔ وجہ اُن کے ادبی نظریات ٹھہرے، جو ترقی پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھائے۔ فکشن کے ساتھ انتظار صاحب نے ساری زندگی کالم نویسی کی۔ یہ کالم جہاں پاکستانی ادبی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں، وہیں انتظار حسین کی شخصیت و فن کے بھی عکاس ہیں۔

پڑھیے: انتظار حسین: تہذیبِ گم گشتہ کا ’آخری داستان گو‘

انتظار صاحب سے بطور انٹرویو نگار ہماری چند ملاقاتیں ہوئیں۔ برادرم محمود الحسن کی سفارش ساتھ تھی، جس کے وسیلے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں اُن سے ایک طویل نشست کا امکان پیدا ہوا۔ گو اُس وقت عمر اُن کی 90 برس تھی، مگر چھڑی ٹیکتے ہوئے سہولت سے سیڑھیاں چڑھ جاتے تھے۔ نہ صرف اپنے سیشنز میں بھرپور گفتگو کرتے، بلکہ بہت سوں میں بطور سامع شریک ہوتے اور توجہ کا محور بنے رہتے۔

وہ ایک صدی جی چکے تھے، اور میرا صحافتی سفر فقط ایک عشرے پر محیط تھا۔ انٹرویو کی تمام تر تیاری اور سوال نامے کا موقع پر ناکافی ہونا امکانی تھا، مگر انتظار صاحب کا کمال یہ تھا کہ وہ آپ کے نامکمل سوال کا بھی مکمل جواب دے دیا کرتے، اور کبھی کبھار وہ سوالات بھی پڑھ لیتے، جو ابھی آپ کے ذہن ہی میں ہوتے۔ وہ کافی حاضر جواب تھے اور تلخ سوال کا جواب دھیمی سپُروں میں آپ کی اُور پلٹتا۔ اُس انٹرویو میں بھی ایسا ہی ہوا۔ البتہ ایک نام سُن کر اُن کے لہجے میں کچھ ترشی در آئی۔ اُس واقعے کے تذکرے سے پہلے کچھ ذکر انتظار صاحب کے حالاتِ زندگی کا ہوجائے۔

جیون کی جھلکیاں

انتظار صاحب 7 دسمبر 1923ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کا رخ کیا اور پھر باقی زندگی یہیں گزری۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ ’لاہور نامہ‘ کے عنوان سے روزنامہ مشرق میں شائع ہونے والے کالم خاصے مشہور ہوئے اور ریڈیو کے لیے بھی کالم لکھتے رہے۔ کالم نویسی کا سلسلہ آخری برسوں تک جاری رہا۔

فکشن نگاری کا آغاز تو بٹوارے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ اپنے اسلوب، لہجوں پر گرفت، اساطیری فضاء اور کردار نگاری سے جلد قارئین کو متوجہ کرلیا۔ ہجرت اُن کا خاص موضوع تھا۔ ماضی کی بازگشت، پچھتاوے، روایت میں پناہ اور پرانی اقدار کے بکھرنے کا نوحہ اُن کی انفرادیت ٹھہرے۔ وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کو نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار کہلائے۔ گو اُن کے فکشن میں روایتی ’عوامی اپیل‘ نہیں تھی، اُن کی تخلیقات قاری سے توجہ مرکوز کرنے اور مطالعے کا تقاضا کرتی تھیں، مگر وہ اپنے چاہنے والوں کا حلقہ پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ انتظار حسین کا 2 فروری 2016ء کو انتقال ہوا۔

میں اور میری کتابیں

’بستی‘ جیسا شاہکار لکھنے والے انتظار حسین کے فن ناول نگاری کا آغاز ’چاند گہن‘ سے ہوتا ہے۔ 'بستی' دوسرا ناول تھا۔ اس کے بعد 'تذکرہ' اور 'آگے سمندر ہے' شائع ہوئے۔ ناولٹ 'دن' کے نام سے لکھا۔ یوں تو تمام تخلیقات زیر بحث آئیں۔ البتہ 'آگے سمندر ہے' اہل کراچی کے اعتراضات اور تحفظات کے باعث خاصا چرچا میں رہا۔

'قیوما کی دکان' اُن کا پہلا افسانہ تھا، جو 1948ء میں 'ادب لطیف' میں شائع ہوا۔ پہلا افسانوی مجموعہ 'گلی کوچے' 1952ء میں سامنے آیا۔ دوسرا تین برس بعد 'کنکری' کے نام سے چھپا۔ 'دن اور داستان'،'آخری آدمی'،'شہر افسوس'،'کچھوے'،'خیمے سے دور'،'خالی پنجرہ‘،'شہرزاد کے نام'،'نئی پرانی کہانیاں' دیگر مجموعے ہیں۔ افسانے کلیات میں سموئے جاچکے ہیں۔

'چراغوں کا دُھواں' اور 'دلی تھا جس کا نام' ایسی تصانیف ہیں، جن میں آپ بیتی کی جھلک ملتی ہے۔ تنقید بھی لکھی۔ 'بستی' اور 'آگے سمندر ہے' سمیت اُن کی کئی تخلیقات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا۔

تذکرہ اعزازات کا

اُنہیں متعدد ملکی و غیرملکی اعزازات سے نوازا گیا، حکومت نے ستارہ امتیاز پیش کیا، اکادمی ادبیات کی جانب سے کمال فن جیسا اعزاز اُن کے حصے میں آیا۔ ستمبر 2014ء میں حکومتِ فرانس نے اُنہیں آفیسر آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز پیش کیا۔ یاد رہے، انتظار حسین اردو کے پہلے اور فی الحال اکلوتے ادیب ہیں، جنہیں مین بُکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

پڑھیے: اردو کے دس بہترین ناول

اپنوں کی تو یہی خواہش تھی کہ یہ عالمی اعزاز انہیں ملے، مگر روس سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر لڈمیلا کا مؤقف بھی بڑا اہمیت رکھتا ہے، جنہوں نے لاہور کی ایک کانفرنس میں دو ٹوک انداز میں کہا، 'انتظار حسین کو مین بُکر پرائز نہ ملنا سراسر ناانصافی تھی۔' ڈاکٹر لڈمیلا ہی نے انتظار حسین کے چیخوف کے ایک ترجمے پر یوں تبصرہ کیا تھا،

'اِسے پڑھتے ہوئے مجھے یوں لگا، جیسے چیخوف کا ترجمہ نہیں، بلکہ چیخوف کو پڑھ رہی ہوں۔'

راقم الحروف کے نزدیک یہ الفاظ کسی عالمی اعزاز سے کم نہیں تھے۔

مارکیز اور محمد علی صدیقی

ہمارے اور انتظار صاحب کے مکالمے کا آغاز بستی سے ہوا۔ خود بستی کا آغاز اِن سطروں سے ہوتا ہے:

'جب دنیا ابھی نئی نئی تھی، جب آسمان تازہ تھا، اور زمین ابھی میلی نہیں ہوئی تھی،'

ان الفاظ اور گیبرئیل گارسیا مارکیز کے لازوال ناول 'تنہائی کے سو سال' میں احساس کی سطح پر خاصی مماثلت ہے کہ اُس میں بھی دنیا کے نئی اور تازہ ہونے کا تذکرہ ہے، اور ابھی بہت سی چیزیں بے نام ہیں۔ ہم نے جب اس مماثلت کا تذکرہ کیا، تو انتظار صاحب فوراً بولے، 'آپ کی باتوں سے تو یوں لگتا ہے کہ میں نے یہ وہاں سے مستعار لیا تھا، حالاں کہ اس وقت یہ ناول انگریزی میں ترجمہ ہوکر نہیں آیا تھا۔'

ان الفاظ نے ہمیں ہلکا سا ہلا دیا۔ فوراً وضاحت کی کہ یہ تذکرہ اس تناظر میں کیا گیا تھا کہ بچپن کی ہر یاد انسان کو حسین لگتی ہے، مگر اس وضاحت کی اب ضرورت نہیں رہی تھی۔ انتظار صاحب کے لہجے میں جو تیزی آئی تھی، وہ ختم ہوچکی تھی، اور وہ اگلے سوال کے لیے تیار تھے۔ بات آگے بڑھ گئی۔

انتظار صاحب پر بہت سے ناقدین نے تنقید کی، اُن کی زندگی میں، اُن کے سامنے بیٹھ کر۔ ان میں کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف ترقی پسند نقاد، دانشور اور انگریزی کے کالم نویس، ڈاکٹر محمد علی صدیقی بھی شامل تھے، جو انتظار صاحب اور ان کے قبیلے کو بیگار کیمپ کا ادیب اور نقاد کہا کرتے تھے۔ تو جب دوران گفتگو انتظار صاحب نے اپنے فکشن پر ہونے والی ابتدائی تنقید اور رجعت پسندی کے ٹھپے کا تذکرہ کیا، تو ہم نے اُسی تناظر میں پوچھ ڈالا کہ،

آپ کے اِس رویے پر خاصی تنقید کی گئی۔ ترقی پسند نقاد، ڈاکٹر محمد علی صدیقی مرحوم نے بھری محافل میں آپ پر تنقید کی۔ تنقید برداشت کرنے کے لیے کتنا حوصلہ چاہیے؟

ہماری توقع کے برعکس انتظار صاحب کے جواب میں تلخی بھی تھی، ترشی بھی۔ اس بار وہ سخت الفاظ برتنے کو تیار تھے۔ کہنے لگے،

'محمد علی صدیقی کی تنقید تو کسی مبتدی کی تنقید تھی۔ آل احمد سرور اور احتشام حسین کی تنقید ان سے بہت بلند تھی۔ یہاں سلیم احمد جیسے نقاد بھی گزرے پھر محمد علی صدیقی ایسی تنقید لکھ رہے ہیں جو تقسیم سے پہلے طالب علم لکھا کرتے تھے۔'

یہ جواب ایسا کرارا تھا کہ چند سیکنڈز ہم خاموش رہ کر اُس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ انتظار صاحب بھی واپس پرانے مزاج میں لوٹ آئے، مگر سنانے کے لیے ہمیں ایک واقعے دے گئے۔ یہ انٹرویو 'اجرا' میں شائع ہوا۔ جب معروف شاعر، عارف شفیق نے یہ انٹرویو پڑھا، تو اُنہوں نے بھی محمد علی صدیقی کے نام پر انتظار صاحب کے لہجے کے بدلاؤ کو محسوس کیا۔ کچھ عرصے بعد، جب کراچی ہڑتال کی لپیٹ میں تھا، ہم ایک چائے کے ڈھابے پر ملے، تو عارف شفیق صاحب نے محمد علی صدیقی اور انتظار حسین کا بالخصوص ذکر کیا۔ ہم نے بھی خوب لطف لیا۔